لاہور( پاک ترک نیوز) کیا ہو اگر آپ کے گھر کی بجلی زمین سے نہیں بلکہ چاند سے آ رہی ہو؟جی ہاں! یہ کوئی سائنس فکشن نہیں بلکہ ایک حقیقی منصوبہ ہے جو دنیا کی توانائی کا مستقبل بدل سکتا ہے۔
جاپانی کمپنی نے ایک حیران کن منصوبہ پیش کیا ہے جس میں چاند کے گرد چھ ہزار 800 میل طویل سولر پلیٹ بنائی جائے گی ،اس منصوبےکو لونا رنگ کہا جاتا ہے
دو ہزار گیارہ میں جاپان نےمتبادل توانائی کے ذرائع پر سنجیدگی سے غور شروع کیا ۔سوال یہ ہے کہ آخر چاند پر سولر پینلز کیوں؟ جواب حیران کن ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہزمین پر لگے سولر پینلز کے مقابلے میں چاند پر لگے پینلز 20 گنا زیادہ توانائی پیدا کر سکتے ہیں۔ کیونکہ وہاں کوئی فضا نہیں ،نہ بادل ،نہ بارش اور نہ ہی مکمل اندھیرا ۔چاند کے خط استوار پر ہمیشہ کسی نہ کسی حصے پر سورج کی روشنی رہتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیسے آئے گی چاند کی بجلی آپ کے گھر؟،یہ منصوبہ کسی فلمی سائنس سے کم نہیں ،چاند پر سولر پینلز سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کریں گے،پھر یہ بجلی خاص ٹرانسمیشن سسٹم کے ذریعے مائیکروویو اور لیزر بیمز میں بدل دی جائے گی۔یہ بیمز سیدھا زمین کی طرف بھیجی جائیں گی۔
زمین پر موجود انیٹینا ان بیمرز کو دوبارہ بجلی میں تبدیل کریں گے ،یو چاند کی توانائی آپ کے گھر تک پہنچ جائے گی۔
چاند پر یہ سب بنانا آسان نہیں ہے،اسی لیے اس منصوبے میں انسان نہیں بلکہ روبوٹس مرکزی کردار ادا کریں گے۔
زمین سے کنٹرول کیے جانے والے روبوٹس چاند کی سطح کو ہموار کریں گے۔مٹی نکالیں گےاور پورا سسٹم تیار کریں گے،انسان صرف معاون کردار ادا کریں گے۔ دلچسپ بات ہے کہ چاند کی مٹی سے ہی تعمیراتی سامان تیار کیا جائے گا، ہائیڈروجن کی مدد سے پانی اور آکسیجن بھی پیدا کی جائے گی۔
اس منصوبے کا ہدف صرف بجلی پیدا کرنا نہیں بلکہ دنیا کو مکمل طور پر فوسل فیول سےنکال کر ہائیڈروجن بیسڈ انرجی سسٹم پر منتقل کرنا ہے۔
اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو گیا تو وہ دن دور نہیں جب زمین کی بجلی کا دارومداد چاند پر ہو گا۔











