اسلام آباد (پاک ترک نیوز) وفاقی حکومت نے نیو انرجی وییلکز پالیسی کے تحت پاکستان ایکسلریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن پروگرام کے دوسرے مرحلے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت الیکٹرک بائیکس، لوڈرز اور رکشے “پہلے آئیے، پہلے پائیے” کی بنیاد پر تقسیم کیے جائیں گے۔ ذرائع نے یہ معلومات پرو پاکستانی کو فراہم کیں۔
وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نو ارب روپے کے پیکیج کی منظوری دی ۔ یہ اسکیم ریونیو نیوٹرل ماڈل کے تحت چلائی جائے گی، جس کیلئے فنڈنگ ایڈاپشن لیوی ایکٹ کے ذریعے فراہم کی جائے گی ،موجودہ مالی سال کے لیے ہدف ایک لاکھ انیس ہزار 170 گاڑیوں کا ہے ،اسکیم کے تحت ایک لاکھ سولہ ہزار الیکٹرک بائیکس اور تین ہزار 170 رکشے اور لوڈر دیئے جائیں گے ،اکتالیس ہزار گاڑیوں پر مشتمل پہلے پائلٹ مرحلے کی تکمیل کے بعد دوسرے مرحلے میں 76ہزار الیکٹرک بائکس اور دو ہزار 170 رکشے اور لوڈرز تقسیم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ای سی سی آئندہ تین ماہ کے اندر مزید ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس کی فوری فراہمی کی منظوری دے سکتی ہے ،پروگرام کے لیے مقامی سطح پر دستیاب اور درآمد کے مرحلے میں موجود ایک لاکھ تیس ہزار کٹس استعمال کی جائیں گی ،ہر الیکٹرک بائیک پر اسی ہزار روپے کی مقرر سبسڈی براہ راست پری کوالیفائیڈ کو ادا کی جائے گی جبکہ تقسیم کا عمل پانچ سو یونٹس کے دو بیجز میں مکمل کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس منصوبے سے قلیل مدت میں تقریباً 86 لاکھ لیٹر پیٹرول کی بچت ہوگی، جس کی مالیت تقریباً 80 لاکھ امریکی ڈالر بنتی ہے، جبکہ آئندہ پانچ برسوں میں یہ بچت 22 کروڑ 20 لاکھ امریکی ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔












