اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) کیا اسلام آباد ایک بار پھر دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان امن کا مرکز بننے جا رہا ہے؟ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی نئی کوششیں۔ اور اس بار بھی کھیل کے پیچھے پاکستان کا اہم کردار،امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان نے امریکا ،ایران کو جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے مذاکرات کی پیشکش کی ہے اور پاکستانی حکام کی سیز فائر کی مدت ختم ہونے سے پہلے اسلام آباد میں دوبارہ مذاکرات کی تجویز دی گئی ہے ، امریکی خبر ایجنسی کے مطابق مذاکرات جمعرات کو ہو سکتے ہیں ،فریقین معاہدے کے لیے نئے بالمشافہ مذاکرات پر غور کر سکتے ہیں ،،امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکرات اب بھی جاری ہیں معاہدے تک پہنچنے کے لیے پیشرفت ہو رہی ہے۔
عالمی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باوجود سفارتکاری کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے، تاہم فریقین کے درمیان بات چیت جاری رکھنے کا امکان موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق علاقائی ممالک دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرگرم ہیں، جبکہ ایک نازک جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور اس میں توسیع کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے اگرچہ ایران اور امریکہ کے مؤقف میں بڑے اختلافات برقرار ہیں، لیکن سفارتی رابطوں اور ثالثی کے ذریعے کسی نئے مذاکراتی دور کی گنجائش موجود ہے۔ دوسری جانب مختلف علاقائی طاقتیں بھی اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ کشیدگی کم کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔
اب سوال یہ ہے کیا اسلام آباد واقعی نئے امن معاہدے کی تاریخ رقم کرے گا؟ یا یہ سفارتی کوششیں بھی عالمی طاقتوں کی سیاست کی نذر ہو جائیں گی؟ “اگلا موڑ کیا ہوگا؟ سب کی نظریں اسلام آباد پر ہیں












