واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) بیس منٹ کی تقریر اور دنیا میں ہلچل ، ،امریکی صدر کی تقریر نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل مزید گہرے کر دیا سوال یہ ہے… کیا ایران کے خلاف کوئی بڑا ایکشن ہونے والا ہے؟اپنی مختصر مگر جارحانہ تقریر میں ٹرمپ نے ایران کو سخت پیغام دیا…اور عندیہ دیا کہ اگر حالات قابو میں نہ آئے تو امریکا “فیصلہ کن کارروائی” کر سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے ایران کے خلاف مزید سخت حملے کیے جائیں گے ،ایران کو پتھر کے زمانے میں دھکیل دیں گے ، ،،
امریکی صدر کے مختصر خطاب نے عالمی طاقتوں کو الرٹ کر دیا ،ماہرین کے مطابق اس بیان کے بعد کئی اہم سوالات جنم لے رہے ہیں، کیا امریکا براہِ راست فوجی حملہ کر سکتا ہے؟ کیا خلیج میں امریکی فوجی موجودگی مزید بڑھائی جائے گی؟ کیا ایران پر مزید سخت معاشی پابندیاں لگ سکتی ہیں؟ یا پھر یہ صرف دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہے؟
ماہرین کے مطابق امریکا کے پاس اس وقت کئی آپشنز موجود ہیں، سب سے پہلے سرجیل اسٹرائیک کی جا سکتی ہے ،سائبر حملے ،ڈرون اٹیکس ،خفیہ کارروائیاں متوقع ہیں ، امریکا خلیج میں مزید بحری بیڑے تعینات کر سکتا ہے ،ایران پر مزید معاشی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ماضی میں بھی سخت فیصلوں کے لیے جانے جاتے ہیں ۔چاہے وہ ایران کے جنرل قاسم سلیمانی پر حملہ ہو یا سخت پابندیوں کا نفاذ۔
دوسری طرف دیکھا جائے تو اگر کوئی صرف ان کی پچھلے ہفتے کی ٹروتھ سوشل پوسٹس کو کاپی پیسٹ کر دے، تو وہ اس قومی خطاب سے بہت مختلف نہیں ہوں گی۔صدر نے امریکیوں کو اس جنگ کی افادیت پر قائل کرنے کی بھی کوشش کی۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ ووٹروں کی اکثریت اس فوجی کارروائی کو ناپسند کرتی ہے جو انھوں نے 28 فروری کو شروع کی تھی۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں…لیکن حالیہ بیانات نے خطے میں ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی قسم کی براہ راست جھڑپ پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے،اب دنیا نظریں واشنگٹن اور تہران پر ہیں ،فیصلہ کن لمحے قریب ہیں۔












