دبئی ( پاک ترک نیوز) اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ایران جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کے خفیہ دورے کی بازگشت سے مشرق وسطیٰ میں نیا طوفان آ گیا ، اسرائیلی وزیراعظم کے بیان کے بعد امارات کی طرف سے بھی بیان سامنے آ گیا ۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا نیتین یا ہو نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات کا غیر اعلانیہ دورہ کیا ۔ وہاں یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے اہم ملاقات کی گئی ،اماراتی حکام سے سکیورٹی اور علاقائی امور پر بات چیت ہوئی،اسرائیلی وزیراعظم کا یہ دعویٰ سامنے آتے ہی علاقائی میڈیا اورسوشل پلیٹ فارمزپرتہلکہ مچ گیا۔
متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی وزیراعظم کے دعوے مستر کر دیئے ، اماراتی وزارت خارجہ نے کہا کسی بھی غیر اعلانیہ یا خفیہ دورے کا کوئی وجود نہیں۔۔ غیر اعلانیہ دوروں سے متعلق دعوے بے بنیاد ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پوشیدہ نہیں، یو اے ای اسرائیل تعلقات اعلامیہ طور پر طے ابراہیمی معاہدہ کے تحت ہیں۔
اسرائیل اور امارات کے بیانات کے بعد تنازع کئی بڑے سوالوں کو جنم دینے لگا ،اگر ملاقات ہوئی تو اس کی تصدیق کیوں نہیں کی جا رہی؟ اگر ملاقات نہیں ہوئی تو دعویٰ کیوں کیا گیا؟ ،کیا یہ محض سیاسی بیانیہ ہے یا سفارتی دباؤ کی ایک نئی شکل ہے۔












