لاہور( پاک ترک نیوز) فضاؤں میں طاقت کی نئی جنگ شروع ہونے جا رہی ہے! ایک طرف جدید ترین لڑاکا طیاروں کی دوڑ، تو دوسری طرف مستقبل کی جنگوں پر حکمرانی کی تیاری! برطانیہ، جاپان اور اٹلی نے چھٹی نسل کے جنگی طیارے کی تیاری کے لیے اہم قدم اٹھا لیا ہے۔ تین ممالک، تین انجینئرنگ مراکز اور ایک ایسا مشترکہ منصوبہ، جس کا ہدف فضائی جنگ کی صلاحیتوں کو نئی بلندیوں تک پہنچانا ہے!جنگ اب صرف رفتار، میزائلوں اور طاقتور انجنوں کا نام نہیں رہی! مستقبل کی فضائی جنگ میں جدید ٹیکنالوجی، باہمی رابطے اور پیچیدہ جنگی نظام فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔ اسی مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے برطانیہ، جاپان اور اٹلی نے اپنے چھٹی نسل کے جنگی طیارے کے منصوبے پر کام تیز کر دیا ہے۔ منصوبے میں اہم پیش رفت! اٹلی کے شہر تورین میں مشترکہ انجینئرنگ مرکز کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ اس مرکز میں مستقبل کے جنگی طیارے کے مختلف نظاموں اور اہم ذیلی نظاموں کی تیاری پر کام ہوگا۔لیکن کہانی صرف اٹلی تک محدود نہیں! جاپان کے شہر ناگویا اور برطانیہ کے علاقے وارٹن میں بھی مزید دو انجینئرنگ مراکز قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ یعنی تین ممالک کے ماہرین ایک مشترکہ مشن کے لیے میدان میں اتریں گے!
یہ بھی پڑھیں: کویت کا برطانیہ سے فضائی دفاعی نظام خریدنے کا معاہدہ
اور اب ذرا اس منصوبے کے حجم کا اندازہ لگائیے! کمپنی کی توقع ہے کہ 2027 کے اختتام تک تورین مرکز میں تینوں ممالک کے 300 سے زائد ملازمین کام کریں گے۔ مزید یہ کہ دوسری عمارت کی تعمیر کا منصوبہ بھی 2027 کے لیے رکھا گیا ہے، جبکہ مکمل فعالیت کے بعد یہاں ایک ہزار سے زیادہ افراد کام کر سکیں گے۔یہ محض ایک طیارہ بنانے کی کوشش نہیں، بلکہ مستقبل کی فضائی برتری حاصل کرنے کے لیے ایک بڑا صنعتی اور تکنیکی مقابلہ ہے! چھٹی نسل کا یہ جنگی طیارہ کن صلاحیتوں سے لیس ہوگا؟ جدید سینسرز، مربوط جنگی نظام، مصنوعی ذہانت سے معاونت اور بغیر پائلٹ فضائی نظاموں کے ساتھ تعاون جیسی ٹیکنالوجیز اس نسل کے جنگی طیاروں کی تیاری میں اہم سمجھی جاتی ہیں۔ تاہم، اس مشترکہ منصوبے کے حتمی طیارے کی تمام خصوصیات اور عملی صلاحیتوں کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔











