لاہور( پاک ترک نیوز) لاہور ہیریٹیج ایریاز ریوائیول بورڈ نے واضح کیا ہے کہ انارکلی میں واقع تاریخی ایونگ ہال کو منہدم نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے محفوظ اور بحال کیا جائے گا، جبکہ اس حوالے سے حالیہ اقدامات مکمل قانونی طریقہ کار کے تحت کیے گئے ہیں۔
بورڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایونگ ہال اور فورمین کرسچیئن کالج کی تاریخی اور جذباتی اہمیت سے پوری طرح آگاہ ہیں، تاہم اس معاملے میں حقائق عوام کے سامنے لانا ضروری ہے۔
بیان کے مطابق ایونگ ہال 1915 میں طلبہ کے ہاسٹل کے طور پر لیز پر دیا گیا تھا، لیکن 2015 سے یہ عمارت اپنی اصل تعلیمی غرض کے لیے استعمال نہیں ہو رہی تھی اور طویل عرصے سے خالی پڑی تھی۔ اس دوران واجب الادا کرایوں کی رقم 10 کروڑ 70 لاکھ روپے سے تجاوز کر گئی۔
بورڈ کے مطابق مارچ 2026 میں بورڈ آف ریونیو پنجاب نے باضابطہ شوکاز نوٹس جاری کیا اور تمام متعلقہ فریقوں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ بعد ازاں فورمین کرسچن کالج اور محکمہ ہائر ایجوکیشن کے نمائندوں کی سماعت کے بعد 27 اپریل 2026 کو ممبر کالونیز نے زمین صوبائی حکومت کے حق میں واپس لینے کا حکم جاری کیا۔
ایل ایچ اے آر بورڈ نے کہا کہ یہ فیصلہ اچانک یا یکطرفہ نہیں تھا بلکہ ایک طویل قانونی عمل اور ضابطوں کے مطابق کیا گیا۔
بورڈ نے عوامی خدشات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایونگ ہال کو گرانے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں،بیان میں کہا گیا کہ ایونگ ہال لاہور کے ثقافتی اور تعمیراتی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے اور اسے اس کی اصل تاریخی شکل میں بحال کیا جائے گا، جیسا کہ شہر کے دیگر تاریخی مقامات پر کیا جا چکا ہے۔












