واشنگٹن ( پاک ترک نیوز)
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی سے عالمی توانائی مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی،،،خام تیل کی قیمت میں فروری 2022 کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہوا ہے،،برینٹ خام تیل تقریباً 25فیصد اضافے کے بعد 116ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔امریکی خام تیل کی قیمت بھی تقریباً 26فیصد بڑھ کر115 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔۔۔۔روس کےیوکرین پر حملے کے بعد پہلی بار قیمتیں دوبارہ 100ڈالرسےاوپر پہنچ گئیں
اسرائیل نے ایران میں تیل کے 30ذخیروں پر حملے کیے جس کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات پیدا ہو چکے ہیں،،رپورٹس کے مطابق امریکا کو ایران میں 30 ایندھن کے ڈپو پر اسرائیل کے حملوں کی توقع نہ تھی، ایرانی تیل تنصیبات پر حملوں سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، امریکا کی تشویش بھی بڑھ چکی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناہے تیل کی قیمتوں میں اضافہ عارضی ہے۔۔ ایران کے جوہری خطرے کے خاتمے کے بعد قیمتیں تیزی سے کم ہوں گی۔۔ عالمی امن و سلامتی کے لیے یہ بہت چھوٹی قیمت ہے۔۔امریکی صدر نے اپنے مؤقف سے اختلاف کرنے والوں کوبے وقوف قرار دے دیا
خام تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔حالیہ اضافہ روزمرہ نقل و حمل اور لاجسٹک شعبے میں مہنگائی کا سبب بن سکتا ہے،تیل کی بڑھتی قیمتوں کا اثر بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس پر بھی پڑتا ہے۔۔اس سے بجلی کے بل میں اضافہ اور توانائی کے دیگر شعبوں میں مہنگائی ممکن ہے۔
تیل کی قیمت میں اضافہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھاتا ہے، جس کا اثر اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروریات کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔مال برداری کے شعبے میں لاگت بڑھنے سے صارفین کو زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔












