لاہور( پاک ترک نیوز) خلیج میں خاموشی، مگر تیل کی آگ ابھی ٹھنڈی نہیں،جنگ بندی کے باوجود عالمی منڈی میں بحران برقرار، قیمتیں مہینوں تک نیچے نہ آنے کا خدشہ ہے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے باوجود اصل جنگ اب عالمی معیشت لڑ رہی ہے!
خلیج میں کشیدگی کم ضرور ہوئی ہے، مگر اس کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔ عالمی ماہرین کے مطابق حالیہ تنازع نے تیل اور گیس کی سپلائی کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ قیمتوں کا معمول پر آنا اب کئی ماہ دور دکھائی دیتا ہے۔
اصل جھٹکا اس وقت لگا جب آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر بند کر دیا گیا۔ یہ وہی اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس رکاوٹ نے عالمی منڈی میں ہلچل مچا دی، قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں اور سپلائی چین تقریباً ٹوٹ کر رہ گئی۔
جنگ سے پہلے روزانہ 120 سے 140 جہاز اس راستے سے گزرتے تھے، مگر حالیہ کشیدگی کے بعد یہ تعداد گھٹ کر صرف چند جہازوں تک محدود ہو گئی۔ ماہرین کے مطابق جب تک اس راستے پر مکمل اور محفوظ آمد و رفت بحال نہیں ہوتی، قیمتوں میں کمی کا خواب پورا ہونا مشکل ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بحران عالمی تیل مارکیٹ کی تاریخ کے بدترین بحرانوں میں سے ایک بن چکا ہے۔ تیل کی ترسیل میں رکاوٹ، انفراسٹرکچر پر حملے اور بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ۔
صرف تیل ہی نہیں، ایل این جی اور دیگر توانائی ذرائع بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان کی بحالی میں 3 سے 6 ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ کئی ممالک نے ذخیرہ کرنے کی کمی کے باعث عارضی طور پر پیداوار بھی روک دی ہے، جس سے سپلائی مزید دباؤ کا شکار ہے۔
دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارہ نے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ادارے کے مطابق اس بحران کے اثرات عالمی معیشت کی رفتار کو سست کر سکتے ہیں، اور آنے والے مہینوں میں مہنگائی کا نیا طوفان آ سکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کی جنگ تو ختم ہو چکی ہے مگرا میں توانائی کی جنگ ابھی جاری ہے اور اس کا بوجھ ہر صارف کو اٹھانا پڑے گا












