لاہور( پاک ترک نیوز) ہر وقت تھکاوٹ صرف سستی نہیں ،خطرناک بیماریوں کا الارم بھی ہو سکتا ہے ،اگر آپ صبح اٹھتے ہی تھکے ہوئے محسوس کرتے ہیں ہمت جلد جواب دے سکتی ہے ،رات کو سونے کے باوجود جسم بوجھل رہتا ہے،یہ آپ کے جسم کا ریڈ الرٹ سگنل بھی ہو سکتا ہے
اگر آپ بھی ہر وقت تھکن، کمزوری اور سستی محسوس کرتے ہیں تو یہ یہ صرف کام کی زیادتی نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی طبی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ ماہرین کے مطابق مسلسل تھکاوٹ کو نظر انداز کرنا خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق مسلسل تھکاوٹ دراصل کئی سنگین بیماریوں کی پہلی علامت ہوتی ہے، جنہیں لوگ اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
تھکاوٹ کی عام وجوہات میں نیند کی کمی ،دیر سے سونا ،موبائل فون کا بے دریغ استعمال ،خون کی کمی ہو سکتی ہے، ماہرین کے مطابق انسان کیلئے روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے تک نیند ضروری ہے ،موبائل فون کا ہر وقت استعمال بھی نیند کے معیار کو خراب کرتا ہے ، نیند کی کمی سے ہر وقت تھکن رہتی ہے۔تھکاوٹ سے چکر آتے ہیں،سانس پھول جاتا ہے ،چہرے پر زردی آ جاتی ہے ،ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ ہلکی سی ڈی ہائیڈریشن بھی جسم کو سست اور تھکا دیتی ہے۔
ذہنی دباؤ اور ڈپریشن بھی جسمانی تھکاوٹ کا باعث بنتا ہے ،،جسمانی کمزوری اور دماغی تھکن اور غیر متوازن غذا سے بھی انسان خود کو تھکا ،تھکا محسوس کرتا ہےجنک فوڈ اور غذائیت کی کمی بھی توانائی کم کر دیتی ہے۔
پروٹینکی کمی ،ہارمونز کا عدم توازن ،تھائرائیڈ کے مسائل بھی تھکاوٹ کی بڑی وجوہات ہیں ،طبی ماہرین کا کہنا ہے اگر تھکاوٹ 2 ہفتے سے زیادہ رہے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں،بلڈ ٹیسٹ کروانا ضروری ہو سکتا ہے،نیند، خوراک اور ورزش کو متوازن رکھنا بنیادی علاج ہے۔
اگر جسم میں خون کی کمی ہو جائے تو آکسیجن پورے جسم تک نہیں پہنچ پاتی ،اس کے نتیجے میں ہر وقت چکر آنا،سانس پھولنا ، چہرہ پیلا پڑ جانے کی حالت ہو سکتی ہے ،جسے ڈاکٹر انیمیا کہتےہیں یہ بیماری نوجوانوں میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
آپ سمجھتے ہیں آپ سو رہے ہیں مگر حقیقت میں آپ کا دماغ کام نہیں کر رہا ہوتا ہےاسے ماہرین سلیپ ڈس آرڈر کہتےہیں،آپ کا دماغ تھک جائے تو جسم خود بخود ہار مان لیتا ہے ، ڈپریشن،اینگزائٹی ،مسلسل ٹینشن یہ سب مل کر انسان کو اندر سے ختم کر دیتے ہیں ۔
تھکاوٹ ہو جائے تو لوگ کیا کرتے ہیں ،چائے پہ چائے ،کافی پہ کافی ،انرجی ڈرنکس استعمال کیے جاتے ہیں ،یہ وقتی طاقت دیتے ہیں بیماری کو چھپاتے ہیں ۔
تھکاوٹ سے بچنے کیلئے آٹھ گھنٹے نیند لیں ،پانی زیادہ پیئں ، ہلکی ورزش اور واک کو معمول بنا لیں ،متوازن غذا کھائیں۔












