لاہور:(پاک ترک نیوز)سرد موسم کی شدت کے ساتھ ہی نزلہ، زکام اور فلو تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ بیماری مردوعورت سب کو ایک ہی طرح متاثر کرتی ہے، لیکن نئی تحقیق نے اس تصور کو چیلنج کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مردوں اور عورتوں میں اس کی علامات مختلف ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق عورتوں کا مدافعتی نظام وائرس کے خلاف زیادہ تیزی سے ردعمل دیتا ہے۔ خواتین کے اندر موجود ایک اہم ہارمون ایسٹروجن، مدافعتی خلیات کی سرگرمی اور اینٹی باڈیز کی پیداوار میں اضافہ کرتا ہے، جس سے انفیکشن جلد ختم ہونے میں مدد ملتی ہے، مگر اس کے ساتھ جسم میں سوزش بھی بڑھ جاتی ہے۔ اسی لیے عورتوں کو زیادہ تھکن، بدن درد اور سر درد جیسی شکایات زیادہ دن تک رہ سکتی ہیں۔
دوسری طرف مردوں میں موجود ہارمون ٹیسٹوسٹیرون جسم کی سوزش کو کم کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے شروع میں علامات ہلکی محسوس ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مرد اکثر بیماری کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور دیر سے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات مردوں کو تیز بخار ہو جاتا ہے، کیونکہ ٹیسٹوسٹیرون دماغ کے درجہ حرارت کنٹرول کرنے والے حصے کو متاثر کرتا ہے۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ عورتیں اپنی صحت پر زیادہ توجہ دیتی ہیں اور جلد علاج کرواتی ہیں، جبکہ مرد بیماری بڑھنے تک انتظار کرتے رہتے ہیں۔
تحقیقی مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ خواتین میں نزلہ زکام کی شدت وقت کے ساتھ زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ ایک مطالعے میں، جس میں انٹرو وائرس، کورونا وائرس اور انفلوئنزا کے مریض شامل تھے، خواتین میں شدید تھکن اور جسمانی درد جیسی علامات ظاہر ہونے کا امکان مردوں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ پایا گیا اور یہ علامات ابتدائی چند دنوں کے بعد بھی برقرار رہتی ہیں۔
اس کے برعکس مردوں میں ابتدا میں علامات نسبتاً ہلکی ہوتی ہیں، تاہم وہ جلدی شدت اختیار کر لیتی ہیں اور پھر نسبتاً کم وقت میں بہتر بھی ہو جاتی ہیں۔









