بیجنگ : (پاک ترک نیوز)چین کے ایک سیٹلائٹ کے ساتھ تصادم کےخطرے کے بعد ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے خلائی تحفظ کے حوالے سے ایک بڑا اور غیر معمولی قدم اٹھا لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسٹارلنک نے اپنے ہزاروں سیٹلائٹس کی بلندی کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ خلاء میں تصادم کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔چینی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف سافٹ ویئر کے محققین کے مطابق اسٹارلنک کے ایک سیٹلائٹ کا چینی سیٹلائٹ کے ساتھ خطرناک حد تک قریب آ جانا اس فیصلے کی بنیادی وجہ بنا۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق اسی واقعے کے بعد کمپنی نے اعلان کیا کہ وہ اپنے 4 ہزار سے زائد سیٹلائٹس کو 550 کلومیٹر (340 میل) کی بلندی سے کم کرکے 480 کلومیٹر (تقریباً 300 میل) کے مدار میں منتقل کرے گی۔
اسپیس ایکس کے نائب صدر برائے انجینئرنگ، مائیکل نِکولس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد خلاء میں حفاظت کو بہتر بنانا ہے۔
ان کے مطابق اسٹارلنک اپنے سیٹلائٹ نیٹ ورک میں ایک بڑی تنظیمِ نو کر رہا ہے جس کے تحت 2026 کے دوران تقریباً 4 ہزار 400 سیٹلائٹس کو نچلے مدار میں منتقل کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ عمل دیگر سیٹلائٹ آپریٹرز، ریگولیٹری اداروں اور امریکی خلائی کمانڈ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ڈسکور میگزین کے مطابق اس وقت دنیا کے گرد مدار میں تقریباً 15 ہزار سیٹلائٹس موجود ہیں، جن میں سے زیادہ تر زمین سے 500 سے 1000 کلومیٹر کی بلندی پر کم درجے کے زمینی مدار (LEO) میں گردش کر رہے ہیں۔
ان میں سب سے بڑا حصہ اسٹارلنک کا ہے، جس کے فعال سیٹلائٹس کی تعداد 9 ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔اسٹارلنک مستقبل میں اپنے نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے کا ارادہ بھی رکھتا ہے اور اس کا ہدف مجموعی طور پر 34 ہزار 400 سیٹلائٹس تک پہنچنا ہے۔
امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (FCC) پہلے ہی 7 ہزار 500 اضافی سیٹلائٹس کی منظوری دے چکا ہے، جس سے اسٹارلنک کا موجودہ نیٹ ورک 19 ہزار سے تجاوز کر سکتا ہے۔ دوسری جانب ایمیزون کے پراجیکٹ کوئپر اور چین کے اسپیس سیل جیسے منصوبے بھی ہزاروں سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس سے زمین کے گرد نچلا مدار انتہائی گنجان ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق سیٹلائٹس کی بلندی کم کرنے سے تصادم کے امکانات میں نمایاں کمی آئے گی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مختلف ممالک اور کمپنیاں خلا میں جگہ کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم اس فیصلے کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔
چینی محققین کے مطابق 560 کلومیٹر کی بلندی پر موجود سیٹلائٹس روزانہ اوسطاً 101 میٹر مدار میں کمی کا سامنا کرتے ہیں، جبکہ 485 کلومیٹر کی بلندی پر یہ کمی بڑھ کر 267 میٹر تک پہنچ جاتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ کم بلندی پر موجود سیٹلائٹس کو اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے زیادہ ایندھن استعمال کرنا پڑے گا، بصورت دیگر وہ جلد زمین کے ماحول میں داخل ہو کر جل سکتے ہیں۔
اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ خلائی تحفظ کے پیش نظر یہ قربانی قابلِ قبول ہو سکتی ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ آنے والے برسوں میں ہزاروں نئے سیٹلائٹس زمین کے مدار میں شامل کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ یہ فیصلہ خلاء میں بڑھتی ہوئی بھیڑ اور ممکنہ حادثات کے خطرے کو کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔












