کیلیفورنیا: (پاک ترک نیوز)ایلون مسک نے کہا ہے کہ اگلے 10 سے 20 سال میں کام کرنا اختیاری ہوگا اور پیسہ غیر ضروری ہو جائے گا، جس کی وجہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس ہوں گی۔
ٹیسلا کے سی ای او نے واشنگٹن میں حالیہ یو ایس–سعودی سرمایہ کاری فورم میں کہا کہ مستقبل میں انسان تمثیلی سبزی کاشتکار بن جائیں گے۔
انہوں نے کام کو ایسے مثال دی جیسے لوگ سبزی اگانے کے لیے اپنے صحن میں محنت کرتے ہیں، جبکہ دکان سے سبزی خریدنا آسان ہوتا ہے۔
مسک کے مطابق، لاکھوں روبوٹ جب ورک فورس میں شامل ہوں گے تو پیداوار میں زبردست اضافہ ہوگا۔
وہ چاہتے ہیں کہ ٹیسلا کی 80 فیصد قدر Optimus روبوٹس سے آئے، حالانکہ ان کی پیداوار میں تاخیر ہے۔
ایلون مسک نے کہا کہ مستقبل میں صحت، علاج اور زندگی کی مدت بھی مصنوعی ذہانت سے بہتر ہوگی، اور انسان موت کو ایک پروگرام سمجھ کر اسے تبدیل کر کے طویل زندگی گزار سکتے ہیں۔
ایلون مسک کا ماننا ہے کہ اس خودکار دنیا میں پیسہ غیر ضروری ہو جائے گا، جیسا کہ سائنس فکشن ناولوں میں دکھایا گیا ہے، اور یونیورسل بنیادی آمدنی لوگوں کی ضروریات پوری کرے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وژن ممکن تو ہے، مگر 10–20 سال میں حقیقت بنانا چیلنج ہوگا۔ روبوٹکس مہنگی اور مخصوص ہے، اور AI کے باوجود کام کی مکمل خودکاری ابھی سست ہے۔
مزید یہ کہ، معاشرتی تبدیلی بھی ضروری ہوگی کیونکہ انسان زیادہ تر اپنی معنی خیز زندگی اور تعلقات کام سے حاصل کرتے ہیں۔ مسک کے مطابق، مستقبل میں انسان AI کو معنی دینے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔












