بیجنگ(پاک ترک نیوز) چینی صدر شی جن پنگ نے قوم پر زور دیا ہےکہ وہ پختہ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھے اور قومی احیائے نو کے عظیم مقصد کے حصول کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری اور سینٹرل ملٹری کمیشن کے چیئرمین شی جن پنگ نے یہ بات گزشتہ روز بیجنگ میں گریٹ ہال آف دی پیپلز میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی 77 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔لی چیانگ نے استقبالیہ تقریب کی صدارت کی۔ اس تقریب میں کیمونسٹ پارٹی آف چائنا کے سینئر عہدیداروں ژاؤ لی جی، وانگ ہوننگ، کائی چی، ڈنگ شوئی شیانگ، لی شی اور ہان ژینگ کے علاوہ تقریباً 800 مہمانوں نے شرکت کی۔صدرشی نے کہاکہچینی قوم کے عظیم احیائے نوکوروکنا ممکن نہیں۔ جب تک ہم پرعزم رہیں گے، اپنے اہداف پر توجہ مرکوز رکھیں گے اور قدم بہ قدم مستقل مزاجی سے آگے بڑھیں گے، کامیابی بالآخر عظیم سی پی سی، عظیم چینی عوام اور عظیم عوامی جمہوریہ چین کا مقدر بنے گی۔انہوں نے نشاندہی کی کہ گزشتہ 77 سالوں کے دوران پارٹی نے چینی عوام کی قیادت کرتے ہوئے دو بڑے معجزات رونما کیے ہیں۔ایک تیز رفتار اقتصادی ترقی اور دوسرا پائیدار سماجی استحکام۔چنانچہ ہم نئے چین کی غیر معمولی کامیابیوں پر بے حد فخر کرتے ہیں اور چینی طرزِ جدیدیت کے روشن مستقبل پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال کے آغاز سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود چینی معیشت نے مسلسل پیش رفت کی ہے اور جدت پر مبنی اعلیٰ معیار کی ترقی حاصل کی ہے۔ جس سے اس کی مضبوط قوتِ مدافعت اور توانائی کا اظہار ہوتا ہے۔ترقی کی اس رفتار کو برقرار رکھنے، جدت پر مبنی، اعلیٰ معیار اور مستحکم اقتصادی ترقی کو فروغ دینے، عوام کے روزگار کے تحفظ اور بہتری کے لیے عملی اقدامات کرنے اور سال کے لیے مقررہ اہداف و فرائض کو پورا کرنے کی کوششیں کی جانی چاہئیں تاکہ 15ویں پانچ سالہ منصوبے2026-2030 کا اچھا آغاز یقینی بنایا جا سکے۔شی نے "ایک ملک، دو نظام” کی پالیسی پر مضبوطی سے کاربند رہنے کی ضرورت پر زور دیا جس کے تحت ہانگ کانگ کے عوام ہانگ کانگ کا اور مکاؤ کے عوام مکاؤ کا انتظام چلاتے ہیں، اور دونوں خطے اعلیٰ درجے کی خودمختاری سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت ہانگ کانگ اور مکاؤ کی ملک کی مجموعی ترقی میں مکمل شمولیت کے عمل میں معاونت کرے گی۔اور مرکزی حکومت ان کی طویل مدتی خوشحالی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔چینی صدر نے آبنائے تائیوان کے آر پار تبادلوں اور تعاون کو گہرا کرنےتائیوان کی آزادی کے خواہاں علیحدگی پسند عناصر کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرنے، بیرونی مداخلت کی مخالفت کرنے اور قومی اتحاد کی راہ ہموار کرنے کے لیے آبنائے کے دونوں اطراف کے تعلقات کی پرامن ترقی کو فروغ دینے کی بھی اپیل کی۔
شی نے کہا کہ چین امن پر مبنی اپنی آزادانہ خارجہ پالیسی پر قائم رہے گا، اپنے پیش کردہ چار بڑے عالمی اقدامات پر عمل درآمد کو آگے بڑھائے گا، اور انسانیت کے لیے مشترکہ مستقبل کی حامل کمیونٹی کی تعمیر کو فروغ دے گا تاکہ ہنگامہ خیز دنیا میں زیادہ یقین اور مثبت توانائی کا حصہ ڈالا جا سکے۔












