نیویارک (پاک ترک نیوز )خلائی تحقیق کے شعبے میں امریکی کمپنی اسپیس ایکس کا تیار کردہ اسٹار شپ راکٹ اپنی جسامت اور طاقت کے باعث دنیا بھر کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ اب تک پرواز کرنے والا سب سے بلند اور طاقتور راکٹ قرار دیا گیا ہے، جس کا مقصد بھاری سامان، انسانوں اور دیگر ضروری وسائل کو زمین کے مدار سے باہر لے جانا ہے۔
اسٹار شپ راکٹ دو حصوں پر مشتمل ہے، جن میں نچلا حصہ سپر ہیوی بوسٹر اور اوپری حصہ اسٹار شپ خلائی جہاز کہلاتا ہے۔ دونوں حصوں کو ملا کر اس کی مجموعی اونچائی 407 فٹ ہے، جو مجسمہ آزادی کی مجموعی اونچائی سے تقریباً ایک تہائی زیادہ ہے۔
سپر ہیوی بوسٹر کی لمبائی 236.2 فٹ ہے، جبکہ اوپری خلائی جہاز 170.6 فٹ بلند ہے۔
راکٹ کے نچلے حصے میں 33 ریپٹر انجن نصب ہیں، جو مائع میتھین اور مائع آکسیجن کو ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ انجن مجموعی طور پر 18 کروڑ 10 لاکھ پاؤنڈ فورس کے برابر قوت پیدا کرتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں امریکی خلائی ادارے ناسا کے اسپیس لانچ سسٹم کی زیادہ سے زیادہ قوت 88 لاکھ سے 94 لاکھ پاؤنڈ فورس ہے۔
سپر ہیوی بوسٹر کی علیحدگی کے بعد اسٹار شپ اپنے چھ ریپٹر انجنوں کی مدد سے سفر جاری رکھتا ہے، جن میں تین عام اور تین خلا میں کام کرنے کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ انجن شامل ہیں۔ اوپری حصے کے انجن تقریباً 35 لاکھ پاؤنڈ فورس کی قوت پیدا کرتے ہیں۔
راکٹ میں ایندھن کی گنجائش بھی غیر معمولی ہے۔ سپر ہیوی بوسٹر میں 3650 میٹرک ٹن جبکہ اسٹار شپ میں مزید 1600 میٹرک ٹن ایندھن ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح دونوں حصوں میں مجموعی طور پر 5250 میٹرک ٹن ایندھن کی گنجائش موجود ہے۔
اسٹار شپ کی پہلی مکمل آزمائشی پرواز اپریل 2023 میں ہوئی تھی، جس کے دوران راکٹ کے انجنوں سے خارج ہونے والی گیسوں اور شدید دباؤ نے لانچ پیڈ کے کنکریٹ کو توڑ دیا اور اس کے نیچے کی زمین کو بھی متاثر کیا، جبکہ ملبہ 385 ایکڑ کے علاقے میں پھیل گیا تھا۔
اسپیس ایکس کا منصوبہ ہے کہ راکٹ کے دونوں حصوں کو واپس زمین پر لا کر دوبارہ استعمال کیا جائے، تاکہ خلائی سفر کی لاگت کم کی جا سکے۔
دوسری جانب چاند پر انسانوں کو اتارنے کے ناسا کے منصوبے میں بھی اسٹار شپ کو اہم کردار دیا گیا ہے۔ تاہم چاند تک پہنچنے کے لیے خلائی جہاز کو زمین کے مدار میں دوبارہ ایندھن فراہم کرنے کی ضرورت ہوگی۔
اس منصوبے کے تحت پہلے ایندھن ذخیرہ کرنے والا خصوصی خلائی مرکز مدار میں بھیجا جائے گا، جس کے بعد ایندھن فراہم کرنے والے اسٹار شپ ٹینکرز اس مرکز تک ایندھن پہنچائیں گے۔ اس کے بعد چاند پر اترنے والا خلائی جہاز وہاں پہنچ کر ایندھن حاصل کرے گا۔
ناسا کے آرٹیمس پروگرام کے تحت عملے کو اورین خلائی جہاز کے ذریعے خلا میں بھیجا جائے گا، جہاں وہ پہلے سے موجود اسٹار شپ لینڈر سے ملاقات کرے گا۔ بعد ازاں دونوں خلائی جہاز چاند کے مدار کی جانب روانہ ہوں گے۔
اسٹار شپ لینڈر دو خلا بازوں کو چاند کی سطح پر اتارنے اور انہیں واپس لانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
تاہم خلا میں انتہائی کم درجہ حرارت پر ایندھن کو محفوظ رکھنا اور ایک خلائی جہاز سے دوسرے تک منتقل کرنا ایک بڑا تکنیکی چیلنج ہے، جس کے لیے خصوصی نظام، مرحلہ وار پرواز اور ایندھن کی دوبارہ فراہمی ضروری ہوگی۔












