بیجنگ (پاک ترک نیوز)چین نے جدید ترین اسٹیلتھ ڈرون ٹیکنالوجی میں اہم پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے، جہاں جی جے 21 جاسوسی اور حملے کی صلاحیت رکھنے والے ڈرون نے پہلی مرتبہ اپنے نئے بحری جنگی جہاز سے اڑان بھرنے اور واپس اترنے کا تجربہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔
چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق یہ تجربہ چین کے پہلے ٹائپ 076 ایمفیبیئس اسالٹ شپ سچوان پر کیا گیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت بڑے بحری جنگی پلیٹ فارمز سے فکسڈ ونگ اسٹیلتھ ڈرونز چلانے کی صلاحیت میں اہم اضافہ ہے۔
چینی دفاعی ماہر ژانگ شوئی فینگ نے گلوبل ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈرون کی تین نمایاں خصوصیات بیان کیں۔
پہلی خصوصیت اس کی اسٹیلتھ ٹیکنالوجی ہے، جس کے باعث ریڈار پر اس کی نشاندہی کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اڑنے والے بازو جیسی ساخت اور خصوصی فضائی انٹیک ڈیزائن اسے ریڈار سے بچنے میں مدد دیتے ہیں۔
دوسری اہم خصوصیت اس کی طویل آپریشنل رینج ہے۔ ماہر کے مطابق اس کا ڈیزائن کم رفتار پر طویل پرواز کے لیے مؤثر بنایا گیا ہے، جس سے یہ دور دراز اہداف کے خلاف کارروائیوں میں مدد دے سکتا ہے۔
تیسری خصوصیت اس کی دوبارہ استعمال کی صلاحیت اور نسبتاً کم لاگت ہے۔ میزائل کے برعکس یہ ڈرون مشن مکمل کرنے کے بعد واپس آ کر دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ چھوٹے اور کم قیمت گائیڈڈ بم بھی لے جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حوثی حملے :امریکہ کا غیر ہنگامی عملے کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم
رپورٹ کے مطابق جی جے 21 کو مستقبل میں چین کے طیارہ بردار بحری جہازوں اور سچوان کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ انسانی پائلٹ والے لڑاکا طیاروں کے ساتھ مل کر دشمن کے فضائی دفاعی نظام اور زمینی اہداف کے خلاف مشن انجام دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
چین کا جنگی جہاز سچوان 27 دسمبر 2024 کو لانچ کیا گیا تھا۔ اس میں الیکٹرومیگنیٹک کیٹپلٹ اور طیاروں کو روکنے کے جدید نظام سمیت مختلف ٹیکنالوجیز نصب ہیں، جبکہ نومبر 2025 سے اس کے سمندری تجربات جاری ہیں۔











