دنیا کی سب سے بلند عمارت کا تاج اب دبئی سے چھننے والا ہے۔ سعودی عرب میں زیرِ تعمیر ایک ایسا فلک بوس ٹاور تیزی سے آسمان کی طرف بڑھ رہا ہے جو مکمل ہونے پر نہ صرف برج خلیفہ کو پیچھے چھوڑ دے گا بلکہ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایک عمارت ایک کلومیٹر کی بلندی کو بھی عبور کر جائے گی۔ انجینئرنگ کا یہ شاہکار اب اپنے سفر کا اہم سنگِ میل عبور کر چکا ہے۔
سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں زیرِ تعمیر جے ای سی ٹاور یا جدہ ٹاور کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔
ٹاور کی موجودہ بلندی 430 میٹر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اسے دنیا کی بلند ترین عمارت بننے کے لیے مزید تقریباً 570 میٹر بلند کیا جانا باقی ہے۔
اب تک عمارت کی 107 منزلیں مکمل ہو چکی ہیں، جس کے بعد یہ دنیا کی چند ایسی عمارتوں میں شامل ہوگئی ہے جنہوں نے سو سے زائد منزلوں کا ہندسہ عبور کیا ہے۔
یہ عظیم منصوبہ اسی عالمی شہرت یافتہ ماہرِ تعمیرات ایڈرین اسمتھ نے ڈیزائن کیا ہے، جنہوں نے دبئی کے برج خلیفہ کا بھی ڈیزائن تیار کیا تھا۔
برج خلیفہ اس وقت 828 میٹر کی بلندی کے ساتھ دنیا کی سب سے اونچی عمارت ہے، لیکن جدہ ٹاور اس سے بھی کہیں بلند ہو کر ایک ہزار میٹر یعنی ایک کلومیٹر کی بلندی حاصل کرے گا۔
نچلی منزلوں پر جدید دفاتر قائم کیے جائیں گے، جبکہ اس کے اوپر 200 کمروں پر مشتمل لگژری ہوٹل بنایا جائے گا۔
بلند منزلوں پر پرتعیش رہائشی اپارٹمنٹس، اسکائی لابی، شاندار رہائش گاہیں، دنیا کے بلند ترین نظارے دیکھنے کے لیے آبزرویشن ڈیکس اور ہیلی کاپٹر لینڈنگ پیڈ بھی تعمیر کیا جائے گا۔
انجینئرز کے مطابق ایک کلومیٹر بلند عمارت تعمیر کرنا دنیا کے مشکل ترین انجینئرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
اتنی بلندی پر تیز ہواؤں کا دباؤ، عمارت کی لرزش، وزن کی تقسیم اور مضبوط بنیادیں سب سے بڑے چیلنج تھے۔
ماہرین نے جدید کمپیوٹر ماڈلز، ونڈ ٹنل ٹیسٹ اور جدید تعمیراتی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسا مضبوط ڈھانچہ تیار کیا ہے جو شدید موسمی حالات کا بھی مقابلہ کر سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: مکہ مکرمہ میں تاریخی دفاعی معاہدہ، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ ایک پیج پر
دلچسپ بات یہ ہے کہ سعودی عرب کے کئی بڑے میگا منصوبے، جیسے دی لائن اور المکعب، مختلف مشکلات کا شکار رہے، مگر جدہ ٹاور کی تعمیر مسلسل تیزی سے جاری ہے۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کو 2028 میں مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔
جب جدہ ٹاور مکمل ہوگا تو یہ صرف دنیا کی بلند ترین عمارت نہیں بلکہ انسانی انجینئرنگ، تعمیراتی مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کی ایک نئی علامت ہوگا۔ ایک کلومیٹر بلند یہ شاہکار نہ صرف سعودی عرب کی پہچان بنے گا بلکہ عالمی تعمیراتی تاریخ میں ایک نیا باب بھی رقم کرے گا۔












