اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) کیا مہنگائی کے ستائے عوام کو آخرکار ریلیف مل گیا؟ کیا تنخواہ دار طبقے کی برسوں پرانی شکایات دور ہو جائیں گی؟ حکومت نے 18 ہزار 771 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا، جس میں ایک طرف ریلیف کے دعوے ہیں تو دوسری جانب محصولات کا بڑا ہدف بھی رکھا گیا۔
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ، جبکہ کم از کم اجرت میں 10 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ اضافہ بڑھتی مہنگائی کا بوجھ کم کر سکے گا؟
تنخواہ دار طبقے کے لیے سب سے بڑی خبر 9 فیصد سرچارج کا خاتمہ ہے۔ حکومت نے مختلف آمدنی کے سلیبز میں ٹیکس کی شرح بھی کم کر دی ہے۔6 لاکھ سالانہ آمدن پر زیرو ٹیکس اور 12 لاکھ روپے آمدن پر 1 فیصد ٹیکس ہو گا،12 لاکھ سے زائد اور 22 لاکھ روپے آمدن تک 11 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا۔
22 لاکھ سے زائد اور 32 لاکھ روپے آمدن تک 20 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا،32 لاکھ سے زائد اور 41 لاکھ روپے آمدن تک 25 فیصد انکم ٹیکس لیا جائے گا۔اِسی طرح41 لاکھ روپے سے زائد اور 56 لاکھ سالانہ آمدن پر 29 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا۔
سو سے زائد اقسام کے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کر دی گئی، الیکٹرک موٹرسائیکل، رکشوں، گاڑیوں، بسوں پر موجودہ رعایت برقرار ہے، درآمد الیکٹرک ٹرکوں پر سیلزٹیکس کی شرح ایک فیصد کم ہوگی۔
جائیداد کے شعبے کے لیے بھی بڑی خوشخبری دی گئی ہے۔ خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس میں نمایاں کمی کی تجویز سامنے آئی ہے۔ کیا اس فیصلے سے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں نئی جان آئے گی یا سرمایہ کار ابھی مزید انتظار کریں گے؟
چھوٹے دکاندار بھی اب ٹیکس نیٹ میں مزید مضبوطی سے شامل کیے جا رہے ہیں۔ ایک کروڑ روپے تک سالانہ فروخت رکھنے والے کاروباروں پر ایک فیصد فکسڈ ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت اسے دستاویزی معیشت کی طرف قدم قرار دے رہی ہے، جبکہ بعض تاجر حلقے اسے اضافی بوجھ سمجھ رہے ہیں۔
فائلرز کے لئے جائیداد کی خریدوفروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کر دی گئی ۔ فائلر کے لئے جائیداد کی فروخت پر ٹیکس ساڑھے پانچ فیصد سے کم کرکے 2.75فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے فائلر کے لئے جائیداد کی خریداری پر ٹیکس 2.5سے کم کرکے 1.25فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
برآمدی شعبے اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مراعات کا سلسلہ برقرار رکھا گیا ہے۔ سو سے زائد خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کر دی گئی، جبکہ الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مزید سہولتیں دی گئی ہیں۔
بجٹ میں دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 3 ہزار 675 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ترقیاتی اخراجات معیشت کو نئی رفتار دے سکیں گے؟
حکومت نے سپر ٹیکس میں بھی نرمی کا اعلان کیا ہے۔ بڑی کمپنیوں کے لیے ٹیکس بوجھ کم کیا جا رہا ہے تاکہ سرمایہ کاری کو فروغ ملے، مگر ناقدین پوچھ رہے ہیں کہ کیا اس کا فائدہ عام آدمی تک بھی پہنچے گا؟
ریلیف کے دعوے، ٹیکس اصلاحات، ترقیاتی منصوبے اور محصولات کے بلند اہداف۔ بجٹ 2026-27 کئی سوالات چھوڑ گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بجٹ واقعی عوام کے لیے آسانیاں لاتا ہے یا آنے والے مہینوں میں نئی بحثوں اور چیلنجز کا سبب بنتا ہے۔












