لندن ( پاک ترک نیوز) برطانیہ کے معروف باکسنگ پروموٹر ایڈی ہرن نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی اور دولتِ مشترکہ کے چیمپئن بلال فواز کو دو دہائیوں سے زائد عرصہ برطانیہ میں رہنے کے باوجود اب تک برطانوی پاسپورٹ نہ ملنا باعثِ شرمندگی ہے۔
38 سالہ بلال فواز کو 14 برس کی عمر میں انسانی اسمگلنگ کے ذریعے برطانیہ لایا گیا تھا۔ وہ گزشتہ 24 برس سے برطانیہ میں مقیم ہیں، لیکن امیگریشن مسائل کے باعث کبھی ملک سے باہر سفر نہیں کر سکے۔
بلال فواز نے شوقیہ سطح پر انگلینڈ کی نمائندگی کی، بعد ازاں ورک پرمٹ ملنے کے بعد پیشہ ورانہ باکسنگ میں قدم رکھا اور برطانوی و دولتِ مشترکہ کے لائٹ مڈل ویٹ ٹائٹل اپنے نام کیے۔ تاہم پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے وہ سعودی عرب، امریکہ یا دیگر ممالک میں ہونے والے مقابلوں میں شرکت نہیں کر سکتے اور نہ ہی اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بیرونِ ملک چھٹیاں منا سکتے ہیں۔
ایڈی ہرن نے کہا کہ حکومت کو فوری طور پر بلال فواز کو پاسپورٹ جاری کرنا چاہیے۔ ان کے بقول اگر پاسپورٹ مل جائے تو وہ بلال کے لیے امریکہ اور سعودی عرب میں بڑے مقابلوں کا انتظام کر سکتے ہیں۔
نائیجیریا میں پیدا ہونے والے بلال فواز کی والدہ کا تعلق بینن جبکہ والد کا تعلق لبنان سے تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ بچپن میں انہیں تشدد، غفلت اور جبری مشقت کا سامنا کرنا پڑا۔ برطانیہ پہنچنے کے بعد وہ ایک گھر میں محدود رہے، تعلیم حاصل نہ کر سکے اور دیگر بچوں سے ملنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔
بعد ازاں وہ وہاں سے فرار ہو کر سرکاری نگہداشت میں آئے، مگر امیگریشن مسائل کے باعث دو مرتبہ حراست میں بھی رہے اور ملک بدری کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالت نے انہیں رہا کر دیا، لیکن وہ عملاً برسوں تک بغیر کسی واضح شہریت کے زندگی گزارتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہواوے کے اسمارٹ فونز کی مقبولیت اب بھی برقرار
33 سال کی عمر میں ورک پرمٹ ملنے کے بعد انہوں نے پیشہ ورانہ باکسنگ کا آغاز کیا اور مختصر عرصے میں قومی اور دولتِ مشترکہ کے اعزازات جیت لیے۔
بلال فواز اس وقت برطانیہ میں دس سالہ مستقل رہائش کے راستے پر ہیں اور موجودہ قوانین کے مطابق وہ 43 سال کی عمر میں برطانوی شہریت کے لیے درخواست دینے کے اہل ہوں گے، بشرطیکہ تمام قانونی تقاضے پورے کریں۔
بلال فواز کا کہنا ہے کہ انہوں نے انگلینڈ کے لیے رنگ میں خون پسینہ بہایا، مگر آج بھی خود کو ایسے محسوس کرتے ہیں جیسے انہیں اس ملک کا حصہ تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ ان کے مطابق اگر انہیں بروقت پاسپورٹ مل جاتا تو شاید وہ اب تک عالمی چیمپئن بن چکے ہوتے۔












