لندن ( پاک ترک نیوز) برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے اپنی پہلی لیبر کابینہ کا اعلان کر دیا ۔ نئی کابینہ میں برنہم نے اپنے وفادار ساتھیوں کو اہم وزارتیں سونپ دی ہیں، جبکہ سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے کئی قریبی وزرا کو کابینہ سے باہر کر دیا گیا ۔
نئی کابینہ میں سابق وزیر دفاع جان ہیلی کو وزیر خزانہ (چانسلر) مقرر کیا گیا ۔ 66 سالہ ہیلی 1997ء سے رکن پارلیمنٹ ہیں اور ٹونی بلیئر کے دور میں بھی ٹریژری میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہیں دفاعی بجٹ میں اضافے اور برطانیہ کی صنعتی بحالی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
شبانہ محمود کو بدستور وزیر داخلہ برقرار رکھا گیا ہے۔ برمنگھم سے تعلق رکھنے والی 45 سالہ شبانہ محمود کیئر اسٹارمر کی حکومت میں بھی اسی منصب پر فائز تھیں اور امیگریشن پالیسیوں کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ وہ قانون کی تعلیم یافتہ بیرسٹر ہیں اور پارٹی کے نسبتاً قدامت پسند دھڑے سے تعلق رکھتی ہیں۔
سابق وزیر توانائی ایڈ ملی بینڈ کو وزیر خارجہ مقرر کیا گیا ہے۔ انہیں غزہ کے حوالے سے نسبتاً نرم اور فلسطین نواز مؤقف اپنانے کے ساتھ ساتھ برطانیہ کی امدادی پالیسی کو دوبارہ مضبوط بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترک لیرا کی قدر میں مزید کمی کا امکان
سابق وزیر خارجہ ایویٹ کوپر کو صحت اور سماجی نگہداشت کی وزارت سونپی گئی ہے۔ برنہم حکومت بالغ افراد کی نگہداشت کے نظام میں اصلاحات کو اپنی ترجیحات میں شامل کر رہی ہے۔
پیٹ میک فیڈن کو ورک اینڈ پنشنز سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے، جہاں وہ سماجی تحفظ کے نظام میں اصلاحات کی نگرانی کریں گے۔
لوئیس ہیگ کو فرسٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ اور کابینہ آفس کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ وہ حکومت کے مختلف محکموں کے درمیان رابطہ کاری اور وائٹ ہال میں انتظامی اصلاحات کی نگرانی کریں گی۔
دیگر اہم تقرریوں میں ویس اسٹریٹنگ کو وزیر دفاع، میاتا فاہنبولہ کو وزیر توانائی، الیکس نورس کو وزیر انصاف، جوناتھن رینالڈز کو وزیر تجارت، انجیلا رینر کو وزیر ہاؤسنگ، لوسی پاول کو وزیر تعلیم اور اینیلیز مڈگلے کو چیف وہپ مقرر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سابق وزیر خزانہ ریچل ریوز کابینہ سے باہر ہو گئی ہیں۔ وہ برطانیہ کی پہلی خاتون چانسلر تھیں اور مالیاتی نظم و ضبط کی پالیسیوں کے باعث جانی جاتی تھیں، تاہم انہیں اسٹارمر کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔
سابق وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی بھی کابینہ کا حصہ نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ حکومت میں خدمات جاری رکھنا چاہتے تھے، لیکن نئے وزیراعظم کو اپنی ٹیم منتخب کرنے کا پورا اختیار حاصل ہے۔اس کے علاوہ ڈیرن جونز، اسٹیو ریڈ، پیٹر کائل، رچرڈ ہرمر، لز کینڈل، جو اسٹیونز اور ہلیری بین بھی نئی کابینہ میں جگہ نہ بنا سکے۔












