بدھ , 28 اکتوبر , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

جنوبی ایشیا میں امریکا نے بھارت سے اجازت لینا چھوڑ دی

4 مہینے پہلے
A A
جنوبی ایشیا میں امریکا نے بھارت سے اجازت لینا چھوڑ دی
Share on Facebookwhatsapp

واشنگٹن (پاک ترک نیوز ) امریکی فوج نے اپنے انڈو پیسیفک کمانڈ کا نام دوبارہ پیسیفک کمانڈ رکھ دیا۔ پینٹاگون نے کہا کہ یہ محض تاریخی نام کی بحالی ہے اور کمانڈ کا دائرۂ اختیار پہلے جیسا ہی رہے گا۔ لیکن جغرافیائی سیاست کا بنیادی اصول یہ ہے کہ نام کبھی صرف نام نہیں ہوتے۔ وہ اشارے، حکمتِ عملی اور مستقبل کی سفارتی و عسکری ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں۔

انڈو کا لفظ دو ہزار اٹھارہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی حکومت کے دوران جان بوجھ کر شامل کیا گیا تھا تاکہ بھارت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم کیا جا سکے۔ اس کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ چین امریکہ کا سب سے بڑا تزویراتی حریف ہے، بھارت اس کے مقابلے میں ایک ناگزیر جمہوری شراکت دار ہے، اور بحرِ ہند اور بحرالکاہل ایک ہی مربوط تزویراتی خطہ ہیں۔

اس وقت کے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا تھا کہ نام کی یہ تبدیلی بحرالکاہل اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلق کی علامت ہے۔ ان کے الفاظ میں یہ تعلق الی وڈ سے ہالی وڈ تک اور پینگوئن سے قطبی ریچھ تک پھیلا ہوا ہے

مگر اب صورتِ حال بدلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے انڈو کو نام سے ہٹا دیا گیا ، جس نے فوری طور پر عالمی توجہ حاصل کی۔ اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے بھارتی رکنِ پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا ،کیا یہ کواڈ اتحاد کے تابوت میں ایک اور کیل ہے۔ان کا اشارہ امریکا ،آسٹریلیا ،بھارت اور جاپان پر مشتمل اس شراکت داری کی طرف تھا جو چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے مقابلے کے لیے قائم کی گئی تھی۔

تاہم اس تبدیلی کی اہمیت صرف کواڈ تک محدود نہیں۔ جنوبی ایشیا کے تناظر میں یہ ایک بڑے پالیسی تغیر کا اشارہ ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ واشنگٹن خاموشی سے اس دور کا اختتام کر رہا ہے جس میں بھارت کو جنوبی ایشیا میں امریکہ کا فطری یا غیر رسمی نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔ اس تبدیلی کے پیچھے متعدد وجوہات اور حالیہ علاقائی پیش رفت کارفرما ہیں۔

کئی برسوں تک امریکی پالیسی سازوں کے ذہن میں جنوبی ایشیا کا نقشہ کچھ یوں تھا کہ بھارت مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ پاکستان کو ایک پیچیدہ مسئلہ سمجھا جاتا تھا، بنگلہ دیش کو زیادہ تر گارمنٹس کی صنعت اور ترقیاتی منصوبوں کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا، جبکہ نیپال کو ایک ایسا ہمالیائی بفر تصور کیا جاتا تھا جس پر بات کرنے سے پہلے نئی دہلی کی رائے اہم سمجھی جاتی تھی۔ خطے کے دیگر چھوٹے ممالک اگرچہ قانونی طور پر خودمختار تھے، لیکن عملی طور پر انہیں اکثر بھارت کے جغرافیائی و سیاسی دائرۂ اثر کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔

موضوعات : americaindiaSouth Asia
ShareSend

متعلقہ خبریں

Strict conditions for air taxi service in the US
تازہ ترین

امریکا میں ایئر ٹیکسی سروس کے لیے سخت شرائط

28 اکتوبر , 2026
Middle Eastern countries can resolve their problems without the United States, says Iranian President.
تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ کے ممالک امریکہ کے بغیر اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں، ایرانی صدر

28 اکتوبر , 2026
India has no other option but to give freedom to the Kashmiri people, says Amir Muqam
تازہ ترین

بھارت کے پاس کشمیری عوام کو آزادی دینے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں،امیر مقام

27 اکتوبر , 2026
US is imposing unilateral demands in negotiations, says Iran
تازہ ترین

امریکا مذاکرات میں یکطرفہ مطالبات مسلط کر رہا ہے، ایران

26 اکتوبر , 2026
Attackers will have to pay a heavy price in the event of a ground operation in Iran, warns the Revolutionary Guards.
تازہ ترین

ایران میں زمینی کارروائی کی صورت میں حملہ آوروں کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی، پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی

24 اکتوبر , 2026
We have severely weakened Iran, says US President.
تازہ ترین

ہم نے ایران کو بری طرح کمزور کر دیا  ،امریکی صدر

22 اکتوبر , 2026
اگلی خبر
للہ جہلم شاہراہ منصوبے کی ڈیڈ لائن میں دسمبر تک توسیع

للہ جہلم شاہراہ منصوبے کی ڈیڈ لائن میں دسمبر تک توسیع

یہ بھی پڑھیں

محسن نقوی کا شاہی قلعہ میں سہ ملکی سیریز کی ٹیموں کے اعزاز میں عشائیہ

محسن نقوی کا شاہی قلعہ میں سہ ملکی سیریز کی ٹیموں کے اعزاز میں عشائیہ

28 اکتوبر , 2026
حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان قانون سازی پر مذاکرات، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق

حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان قانون سازی پر مذاکرات، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق

28 اکتوبر , 2026
میر رضا کیس، سندھ حکومت نے جے آئی ٹی تشکیل دے دی

میر رضا کیس، سندھ حکومت نے جے آئی ٹی تشکیل دے دی

28 اکتوبر , 2026
ون چائنا پالیسی کی حمایت،پاکستان نے تائیوان کی ایئر لائنز کے لیے فضائی حدود بند کر دی

ون چائنا پالیسی کی حمایت،پاکستان نے تائیوان کی ایئر لائنز کے لیے فضائی حدود بند کر دی

28 اکتوبر , 2026
سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے گھر 21 سال بعد بیٹے کی پیدائش

سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے گھر 21 سال بعد بیٹے کی پیدائش

28 اکتوبر , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔