واشنگٹن (پاک ترک نیوز ) امریکی فوج نے اپنے انڈو پیسیفک کمانڈ کا نام دوبارہ پیسیفک کمانڈ رکھ دیا۔ پینٹاگون نے کہا کہ یہ محض تاریخی نام کی بحالی ہے اور کمانڈ کا دائرۂ اختیار پہلے جیسا ہی رہے گا۔ لیکن جغرافیائی سیاست کا بنیادی اصول یہ ہے کہ نام کبھی صرف نام نہیں ہوتے۔ وہ اشارے، حکمتِ عملی اور مستقبل کی سفارتی و عسکری ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں۔
انڈو کا لفظ دو ہزار اٹھارہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی حکومت کے دوران جان بوجھ کر شامل کیا گیا تھا تاکہ بھارت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم کیا جا سکے۔ اس کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ چین امریکہ کا سب سے بڑا تزویراتی حریف ہے، بھارت اس کے مقابلے میں ایک ناگزیر جمہوری شراکت دار ہے، اور بحرِ ہند اور بحرالکاہل ایک ہی مربوط تزویراتی خطہ ہیں۔
اس وقت کے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا تھا کہ نام کی یہ تبدیلی بحرالکاہل اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلق کی علامت ہے۔ ان کے الفاظ میں یہ تعلق الی وڈ سے ہالی وڈ تک اور پینگوئن سے قطبی ریچھ تک پھیلا ہوا ہے
مگر اب صورتِ حال بدلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے انڈو کو نام سے ہٹا دیا گیا ، جس نے فوری طور پر عالمی توجہ حاصل کی۔ اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے بھارتی رکنِ پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا ،کیا یہ کواڈ اتحاد کے تابوت میں ایک اور کیل ہے۔ان کا اشارہ امریکا ،آسٹریلیا ،بھارت اور جاپان پر مشتمل اس شراکت داری کی طرف تھا جو چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے مقابلے کے لیے قائم کی گئی تھی۔
تاہم اس تبدیلی کی اہمیت صرف کواڈ تک محدود نہیں۔ جنوبی ایشیا کے تناظر میں یہ ایک بڑے پالیسی تغیر کا اشارہ ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ واشنگٹن خاموشی سے اس دور کا اختتام کر رہا ہے جس میں بھارت کو جنوبی ایشیا میں امریکہ کا فطری یا غیر رسمی نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔ اس تبدیلی کے پیچھے متعدد وجوہات اور حالیہ علاقائی پیش رفت کارفرما ہیں۔
کئی برسوں تک امریکی پالیسی سازوں کے ذہن میں جنوبی ایشیا کا نقشہ کچھ یوں تھا کہ بھارت مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ پاکستان کو ایک پیچیدہ مسئلہ سمجھا جاتا تھا، بنگلہ دیش کو زیادہ تر گارمنٹس کی صنعت اور ترقیاتی منصوبوں کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا، جبکہ نیپال کو ایک ایسا ہمالیائی بفر تصور کیا جاتا تھا جس پر بات کرنے سے پہلے نئی دہلی کی رائے اہم سمجھی جاتی تھی۔ خطے کے دیگر چھوٹے ممالک اگرچہ قانونی طور پر خودمختار تھے، لیکن عملی طور پر انہیں اکثر بھارت کے جغرافیائی و سیاسی دائرۂ اثر کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔












