تہران ( پاک ترک نیوز) خطرے کی گھنٹی بج گئی ،مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ،امریکا کا ایک اور بحری بیڑا مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کر دیا گیا ،اس سے پہلے امریکی بحری بیڑے جیرالڈ فورڈ اور ابراہم لنکن پہلے سے ہی مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں ہر گزرتا لمحہ خطرہ بڑھا رہا ہے،سمندر خاموش نہیں ،طوفان آنے والا ہے ،سمندروں میں جنگی جہازوں کی گونج، فضا میں خطرے کی گھنٹیاں تیز ہو گئیں ،امریکی بحری بیڑے کی آمد کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ تو نہیں ،کیا امریکا کا یہ اقدام صرف دباؤ ڈالنے کے لیے ہے یا کسی خفیہ آپریشن کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یہ جنگ صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود رہے گی یا یورپ، ایشیا اور امریکا کو بھی لپیٹ میں لے لے گی۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے نئے امریکی بحری بیڑے کی آمد کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو یہ صرف خطے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پوری دنیا اس کے اثرات محسوس کرے گی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خطے کے ممالک کو وارننگ دے دی ہے کہ اگر خطے کے ممالک اپنی سکیورٹی چاہتے ہیں تو ہمارے دشمنوں کو اپنی زمین پر جگہ نہ دیں، آپ کی سرزمین سے ایران کے انفراسٹریکچر یا معاشی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔
سوال یہ ہے کہ کیا دنیا ایک اور بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے؟ یا سفارتکاری اس آگ کو بجھا پائے گی؟












