اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) آئی ایم ایف کی نئی شرط، کروڑوں صارفین کی سبسڈی خطرے میں پڑ گئی ،عالمی مالیاتی ادارے نے دو سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی شرط رکھ دی ،صرف مستحق افراد کو ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا مشورہ بھی دے ڈالا ۔
حکومت نے آئی ایم ایف کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے نیا فارمولا تیار کرنا شروع کر دیا ، سبسڈی کی ادائیگی کا موثر طریقہ کار وضع کرنے کے لیے رواں ماہ کے اختتام تک ایک بیرونی کنسلٹنٹ فرم کی خدمات حاصل کی جائیں گی ، جس کے تحت آئندہ بجٹ میں پاور سیکٹر کے لیے سبسڈی کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ نیا نظام یکم جنوری 2027 سے نافذ کیے جانے کی تجویز ہے، جبکہ حکومت نے اس پر کام بھی شروع کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے ملک بھر میں دو کروڑ سے زائد پروٹیکٹڈ صارفین متاثر ہو سکتے ہیں۔
پاکستان میں اس وقت 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو پروٹیکٹڈ صارفین کہا جاتا ہے۔ ان صارفین کو بجلی سستے نرخوں پر فراہم کی جاتی ہے تاکہ کم آمدن والے طبقے کو ریلیف مل سکے۔
پاکستان میں بجلی کے شعبے کے نگران ادارے نیپرا کے مطابق ملک میں 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد دو کروڑ سے زائد ہے جو بجلی صارفین کی مجموعی تعداد کا 59 فیصد ہیں۔۔۔۔ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ موجودہ سبسڈی نظام غیر مؤثر ہے اور اس کا فائدہ صرف غریب طبقے تک محدود نہیں رہا۔
نئے مجوزہ نظام کے تحت بجلی کے بلوں میں رعایت دینے کے بجائے مستحق خاندانوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام یعنی بی آئی ایس پی کے ذریعے مالی مدد دی جائے گی۔
حکومت صارفین کا ڈیٹا نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری سے منسلک کرے گی تاکہ اصل مستحق افراد کی شناخت ہو سکے۔
دو میٹر لگانے والوں کے لیے بھی بری خبر سامنے آ گئی ،رپورٹ کے مطابق حکومت ایسے صارفین کی بھی نشاندہی کرے گی جو ایک ہی گھر میں دو یا زائد میٹر لگا کر ہر میٹر کا استعمال 200 یونٹ سے کم رکھتے ہیں تاکہ سبسڈی حاصل کرتے رہیں۔توانائی ماہرین کے مطابق پوش علاقوں میں کئی بڑے گھروں میں یہی طریقہ استعمال کیا جا رہا ہے۔
سولر صارفین بھی ریڈار پر آ گئے ،ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جنہوں نے گھروں پر مہنگے سولر سسٹم لگائے ہوئے ہیں، ان کا گرڈ سے بجلی کا استعمال کم ہوتا ہے اور وہ بھی 200 یونٹ والی سبسڈی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، حالانکہ وہ مالی طور پر مستحق نہیں سمجھے جاتے۔
وفاقی وزارتِ توانائی نے اعلان کیا ہے کہ اب بجلی کے ماہانہ بل پر واضح طور پر درج کیا جائے گا کہ صارف کو کتنی سبسڈی دی گئی۔اس کے علاوہ بل پر ایک کیو آر کوڈ بھی دیا جائے گا، جسے سکین کر کے صارفین کو رجسٹریشن کرنا ہوگی تاکہ مستقبل میں سبسڈی جاری رکھی جا سکے۔
وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد سبسڈی ختم کرنا نہیں بلکہ اسے شفاف اور مستحق افراد تک محدود کرنا ہے۔
بجلی صارفین کے لیے سبسڈی کے نئے نظام کے متعارف کرانے کے بارے میں توانائی شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ آئی ایم ایف کی جانب سے بجلی صارفین کے لیے عام سبسڈی کی بجائے ٹارگٹڈ سبسڈی کے نظام کو متعارف کرنا ہے۔












