لاہور( پاک ترک نیوز) پاکستان اور ایران کے سفارتی تعلقات میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان آج اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کریں گے، جہاں وہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سمیت پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی پاکستانی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات، سرحدی تعاون، تجارت، توانائی، علاقائی امن و استحکام اور اعلیٰ سطحی روابط کے فروغ پر تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال، ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات، خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال اور باہمی مفادات سے متعلق اہم امور بھی ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔
ایرانی صدر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ غیر معمولی سیاسی تبدیلیوں اور سفارتی سرگرمیوں کے دور سے گزر رہا ہے۔ پاکستان ایک جانب خطے میں امن اور استحکام کا حامی ہے جبکہ دوسری جانب ایران اپنے علاقائی اور بین الاقوامی تعلقات کو نئی جہت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان سرکاری تجارت ابھی بھی اپنی حقیقی صلاحیت سے بہت کم ہے۔ دونوں ممالک سرحدی منڈیوں، کسٹمز سہولتوں اور بینکنگ روابط کو بہتر بنا کر تجارتی حجم کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔
ایران دنیا کے بڑے گیس اور تیل ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اگر بین الاقوامی پابندیوں اور دیگر رکاوٹوں کے حوالے سے کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو پاکستان کو سستی گیس،توانائی کے نئے منصوبوں میں فائدہ مل سکتا ہے ۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات کی کامیابی کا دارو مدار وعدوں پر عمل درآمد پر ہے ،ایرانی صدر
بلوچستان اور ایران سے ملحقہ علاقوں میں قانونی تجارت بڑھنے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ،اسمگلنگ میں کمی آ سکتی ہے ،مقامی معیشت مضبوط ہو سکتی ہے ،پاکستان، ایران اور وسط ایشیائی ممالک کے درمیان راہداری اور ٹرانزٹ تجارت کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، جس سے پاکستان ایک علاقائی تجارتی مرکز کے طور پر اپنی اہمیت بڑھا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس دورے کے دوران توانائی، سرحدی تجارت اور اقتصادی تعاون سے متعلق عملی پیشرفت سامنے آتی ہے تو یہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ خصوصاً گیس، بجلی اور سرحدی منڈیوں کے منصوبوں پر پیشرفت دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
ادھر ایرانی صدر کے دورے کے پیش نظر اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ شاہراہ دستور اور دیگر اہم شاہراہوں پر پاکستان اور ایران کے قومی پرچم آویزاں کر دیے گئے ہیں جبکہ سرکاری عمارتوں کے اطراف خصوصی سکیورٹی تعینات کی گئی ہے۔












