اسلام آباد(پاک ترک نیوز )اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ ناصر عباس نے پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کے گھر وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی تصدیق کردی۔علامہ ناصر عباس نے کہا کہ پارلیمنٹ میں مذاکرات سے قبل بیرسٹر گوہر کے گھر محسن نقوی سے ملاقات ہوئی، ملاقات میں طلال چوہدری بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ محسن نقوی نے ملاقات کے دوران کہا کہ وعدہ کریں اور لکھ کر دیں کہ آپ یہ نہیں کریں گے۔ بیرسٹر گوہر کے گھر ملاقات کا مقصد یہ تھا کہ کوئی مشترکہ ایجنڈا طے ہوسکے۔
علامہ ناصر عباس نے کہا کہ اگر سکیورٹی کے مسائل کو سیاسی مسائل کے ساتھ نہ ملایا جاتا تو مذاکرات میں پہلا قدم اٹھ گیا تھا۔ محسن نقوی سے مذاکرات کامیاب بنانے کے لیے بات چیت ہوئی تھی۔اپوزیشن لیڈر سینیٹ نے کہا کہ مذاکرات ختم ہونے کے بعد میرا کسی سرکاری عہدیدار سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان خیبر پختونخوا کے حالات سے واقف ہیں، ہم مولانا کو صرف آل پارٹیز کانفرنس میں دعوت دینے کے لیے گئے تھے۔علامہ ناصر عباس کے مطابق جب مذاکرات کی میز پر بیٹھے تو دہشت گردی کا معاملہ ایجنڈے میں شامل کردیا گیا۔ بیرسٹر گوہر نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر سکیورٹی کے معاملات پر بات کرنی تھی تو پہلے بتایا جاتا۔
یہ بھی پڑھیں: احسن بھون سمیت پاکستان بار کونسل کے تمام کامیاب ممبران کی ڈگریاں اصلی قرار
انہوں نے کہا کہ شاید ہمیں مذاکرات سے پہلے ایجنڈا لے لینا چاہیے تھا۔علامہ ناصر عباس نے واضح کیا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ضروری ہے، اگر بانی پی ٹی آئی توثیق نہ کریں تو مذاکرات بے معنی ہیں۔












