لاہور: (پاک ترک نیوز)ایک حالیہ طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ مناسب مقدار میں چائے یا کافی پینا دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق روزانہ دو سے تین کپ کیفین والے گرم مشروبات استعمال کرنے والے افراد میں بڑھاپے میں یادداشت کمزور ہونے یا ڈیمنشیا میں مبتلا ہونے کے امکانات نمایاں حد تک کم پائے گئے۔
یہ نتائج امریکا میں ایک بڑے ڈیٹا بیس کے تجزیے سے اخذ کیے گئے، جس میں تقریباً ایک لاکھ اکتیس ہزار افراد کی طویل المدتی صحت سے متعلق معلومات شامل تھیں۔
تحقیق کے دوران شرکاء سے ان کی روزمرہ عادات، خاص طور پر کیفین والے مشروبات کے استعمال کے بارے میں سوالات کیے گئے، اور پھر کئی برسوں تک ان کی ذہنی کارکردگی اور یادداشت کا جائزہ لیا جاتا رہا۔
مطالعے سے معلوم ہوا کہ جو افراد روزانہ دو یا تین کپ چائے یا کافی پیتے تھے، ان میں ڈیمنشیا کا خطرہ ان لوگوں کی نسبت کم تھا جو یہ مشروبات استعمال نہیں کرتے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کیفین دماغی خلیات کو متحرک رکھنے اور سوزش کم کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہے، جس سے ذہنی تنزلی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔البتہ تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ تین کپ سے زیادہ مقدار پینے سے اضافی فائدہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ یعنی اعتدال ہی فائدہ مند ہے۔
مزید برآں، کیفین والی کافی استعمال کرنے والے افراد نے بعض ذہنی ٹیسٹوں میں بہتر کارکردگی دکھائی، جبکہ بغیر کیفین والی کافی پینے والوں میں ایسا رجحان کم دیکھا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم صرف چائے یا کافی پر انحصار کافی نہیں۔ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند اور ذہنی سرگرمیاں بھی دماغی صحت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔
یہ تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ روزمرہ کی سادہ عادات بھی طویل المدتی دماغی صحت پر مثبت اثر ڈال سکتی ہیں، بشرطیکہ انہیں اعتدال اور متوازن طرزِ زندگی کے ساتھ اپنایا جائے۔










