لاہور( پاک ترک نیوز) بڑھتی ہوئی توند نہ صرف شخصیت کو متاثر کرتی ہے بلکہ دل کے امراض، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور جگر کی بیماریوں کے خطرات بھی بڑھا دیتی ہے۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ پیٹ کی چربی کم کرنا کسی ایک ورزش یا دوا سے ممکن نہیں بلکہ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی ہی اس کا مؤثر حل ہے۔
دنیا بھر میں موٹاپا تیزی سے بڑھنے والا مسئلہ بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق پیٹ کے گرد جمع ہونے والی چربی، جسے ویسرل فیٹ کہا جاتا ہے، جسم کے اندرونی اعضا کے گرد جمع ہو کر مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔
ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ توند کم کرنے کے لیے سب سے پہلے خوراک میں تبدیلی ضروری ہے۔ میٹھے مشروبات، بیکری آئٹمز، فاسٹ فوڈ اور ضرورت سے زیادہ کاربوہائیڈریٹس کا استعمال کم کرنا چاہیے جبکہ سبزیاں، پھل، دالیں، سالم اناج اور پروٹین سے بھرپور غذاؤں کو ترجیح دینی چاہیئے
ماہرین کا کہناہے توند کم کرنے کا کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ اگر روزانہ استعمال ہونے والی کیلوریز سے کم کیلوریز لی جائیں اور متوازن غذا اپنائی جائے تو جسم بتدریج اضافی چربی استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔
فٹنس ماہرین کے مطابق صرف پیٹ کی ورزشیں کرنے سے توند ختم نہیں ہوتی۔ چربی پورے جسم سے کم ہوتی ہے، اس لیے تیز چہل قدمی، جاگنگ، سائیکلنگ اور تیراکی جیسی ایروبک سرگرمیاں زیادہ مؤثر سمجھی جاتی ہیں۔
ماہرین ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل ورزش یا 75 منٹ بھرپور جسمانی سرگرمی کی سفارش کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ طاقت بڑھانے والی ورزشیں بھی عضلات کو مضبوط بنا کر میٹابولزم بہتر کرتی ہیں۔
نیند کی کمی اور ذہنی دباؤ بھی پیٹ کی چربی بڑھانے کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ تحقیق کے مطابق ناکافی نیند جسم میں ایسے ہارمونز پیدا کرتی ہے جو بھوک میں اضافہ اور وزن بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔ماہرین روزانہ سات سے نو گھنٹے کی معیاری نیند اور تناؤ کم کرنے کے لیے جسمانی سرگرمی، مراقبے یا دیگر مثبت مشاغل اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔










