اسلام آباد (پاک ترک نیوز)پاکستان نے خام تیل کی درآمد بڑھانے اور توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے لیبیا، قطر اور ترکی کے ساتھ اہم مذاکرات کیے ہیں۔ لیبیا سے خام تیل کی فراہمی، قطر کے ساتھ مائع قدرتی گیس کے شعبے میں تعاون اور ترکی کے ذریعے پاکستان کے سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ریاض میں لیبیا کے وزیر تیل و گیس سے ملاقات کی، جس میں خام تیل کی درآمد اور باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان نے اپنی تیل صاف کرنے والی فیکٹریوں کو لیبیا سے خام تیل درآمد کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اس موقع پر لیبیا کے وزیر تیل و گیس نے یقین دہانی کرائی کہ ان کا ملک پاکستانی کمپنیوں کو خام تیل کی فراہمی میں مدد فراہم کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: معاشی استحکام کے لیے مہنگائی پر قابو پانا ضروری ہے،وزیر خزانہ
ملاقات میں دونوں ممالک نے تیل صاف کرنے والی فیکٹریوں کو جدید بنانے کے شعبے میں تجربات کے تبادلے میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے قطر کے وزیر توانائی سعد شیریدہ الکعبی سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں مائع قدرتی گیس کے شعبے میں تعاون کے ممکنہ مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر پیٹرولیم کی ترک وزیر توانائی الپ ارسلان بائراکتار سے بھی ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان کے سمندری علاقے میں تیل و گیس کی تلاش کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔
ترک وزیر توانائی کے مطابق، ترک کمپنی ترکی پیٹرولیم کا زلزلہ پیمائی اور زیرِ سمندر ارضیاتی معلومات جمع کرنے والا جہاز اگلے ماہ پاکستان پہنچے گا۔ جہاز بحیرۂ عرب کے انڈس بیسن میں معلومات جمع کرے گا، جنہیں سمندر میں تیل و گیس کے ممکنہ ذخائر کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
پاکستان، لیبیا، قطر اور ترکی کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی یہ کوششیں خام تیل کی درآمد، گیس کے ممکنہ تعاون اور ملکی سمندری حدود میں توانائی کے ذخائر کی تلاش کے حوالے سے اہم پیش رفت ہیں۔












