اسلام آباد (پاک ترک نیوز )پاکستان میں غربت کے حوالے سے عالمی بینک کی رپورٹ نے معاشی صورتحال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل خطے میں روزانہ تین ڈالر سے کم آمدن والے افراد میں سے اڑتالیس فیصد پاکستان میں رہتے ہیں۔ عالمی بینک نے غربت میں اضافے کی وجوہات میں بلند مہنگائی، روزگار کے محدود مواقع اور معاشی دباؤ کو شامل کیا ہے، جبکہ سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے ضروری معاشی اصلاحات نہ ہونے کو بھی غربت میں اضافے کی وجہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے رپورٹ کے اعداد و شمار کی تشریح پر اعتراض اٹھایا ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک بڑی آبادی روزانہ تین ڈالر، یعنی تقریباً آٹھ سو تیس روپے یا اس سے کم آمدن پر گزارا کرنے پر مجبور ہے۔ رپورٹ میں موجودہ مالی سال کے دوران پاکستان کی معاشی شرحِ نمو تین اعشاریہ آٹھ فیصد، مالیاتی خسارہ تین اعشاریہ پانچ فیصد اور مہنگائی کی شرح آٹھ اعشاریہ دو فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ خوراک اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ غریب طبقے پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور ایل نینو کے ممکنہ اثرات کے باعث غذائی اشیا کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کووڈ انیس کی وبا، دو ہزار بائیس کے سیلاب، بلند مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی نے بھی غربت میں اضافے میں کردار ادا کیا۔
سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ معاشی اصلاحات نہ ہونے، صارفین کی قوتِ خرید کم ہونے اور روزگار کے مواقع محدود ہونے سے غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔ ان کے مطابق سرکاری اداروں کے حجم میں کمی، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول اور زرعی شعبے کے مسائل حل کرنا ضروری ہے۔
دوسری جانب وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور افغانستان کے ساتھ ایک انتظامی اور شماریاتی خطے میں شامل کرنے سے علاقائی اعداد و شمار پر نمایاں اثر پڑتا ہے۔ ان کے مطابق یہ تاثر دینا گمراہ کن ہے کہ خطے کے تقریباً نصف غریب پاکستان میں رہتے ہیں، کیونکہ پاکستان کی بڑی آبادی بھی ان اعداد و شمار میں شامل ہے۔












