اسلام آباد(پاک ترک نیوز)پاکستان اور چین کے درمیان پہلی مشترکہ بری فوجی مشقیں رواں ماہ اکتوبر کے وسط اور آخری حصے میں منعقد ہوں گی۔ ’’قراقرم 2026‘‘ کے نام سے ہونے والی ان مشقوں کا مقصد دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تعاون بڑھانا، جنگی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور دونوں ممالک کی افواج کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے۔
چین کی وزارتِ قومی دفاع کے ترجمان سینئر کرنل چن شی کے مطابق مشترکہ فوجی تربیت چین کے شمال مغربی علاقے سنکیانگ کے شہر کورلا میں ہوگی۔ مشقوں میں بلند پہاڑی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
چینی وزارتِ دفاع کے مطابق مشقوں میں بغیر پائلٹ طیاروں کے استعمال، دورانِ نقل و حرکت اہداف کی تلاش، نشانہ بازی اور طویل فاصلے سے ہدف کو نشانہ بنانے کی تربیت شامل ہوگی۔ اس کے علاوہ مشترکہ کمان کے تحت مشقیں اور فوجی دستوں کی عملی سرگرمیاں بھی ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ایف 35 طیارہ بھارت کو فروخت کرنے کی باضابطہ پیشکش نہیں، بھارتی فضائیہ کے سربراہ کا اعتراف
چینی فوجی امور کے ماہر ژانگ جوئے شی کے مطابق پہلی مشترکہ بری فوجی مشقیں دونوں ممالک کے فوجی تعاون کو بحریہ اور فضائیہ سے آگے بڑھاتے ہوئے بری افواج تک وسعت دیں گی۔ ان کے بقول، اس اقدام سے باہمی اعتماد بڑھے گا اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔
پاکستان اور چین اس سے پہلے مشترکہ بحری مشقیں ’’سی گارڈین‘‘ اور فضائی مشقیں ’’شاہین‘‘ منعقد کر چکے ہیں۔ تاہم، قراقرم 2026 دونوں ممالک کی بری افواج کی پہلی مشترکہ تربیتی مشق ہوگی۔
چینی ماہر کے مطابق دونوں ممالک انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، مشترکہ کارروائیوں، جدید ٹیکنالوجی، فوجی سازوسامان اور تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین بغیر پائلٹ طیاروں اور جدید نگرانی کے نظام سمیت تکنیکی معاونت فراہم کرکے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف صلاحیتوں میں اضافے میں مدد دے سکتا ہے۔












