اسلام آباد(پاک ترک نیوز) وفاقی حکومت نے مویشیوں اور گوشت کی برآمدات بڑھانے کے لیے زندہ گائے، بھیڑ اور بکریاں ڈیوٹی اور ٹیکس کے بغیر درآمد کرنے کی اجازت دینے کے نئے قواعد متعارف کرا دیے۔
وفاقی بورڈ برائے محصولات کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت برآمدات سے وابستہ کاروباری ادارے درآمد کیے گئے جانوروں کو فربہ کرنے کے بعد زندہ حالت میں یا گوشت کی صورت میں بیرون ملک فروخت کر سکیں گے۔ نئے قواعد متعلقہ فریقوں کی تجاویز کے بعد سات روز میں حتمی شکل دیے جانے کی تجویز ہے۔
اس اسکیم کے تحت کسٹمز ڈیوٹی، اضافی کسٹمز ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، وفاقی ایکسائز ڈیوٹی اور ودہولڈنگ انکم ٹیکس سے چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔ تاہم، پاکستان میں پیدا ہونے والے جانور اس سہولت میں شامل نہیں ہوں گے، جبکہ خالص نسل کے افزائشی جانور بھی اسکیم سے مستثنیٰ ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں : حافظ نعیم الرحمان کا لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان
مجوزہ قواعد کے مطابق اسکیم کے دو طریقے ہوں گے۔ پہلے طریقے میں درآمد شدہ جانوروں کو فربہ کرکے زندہ برآمد کیا جائے گا، جبکہ دوسرے طریقے میں جانوروں کو فربہ کرنے کے بعد ذبح کرکے ان کا گوشت اور گوشت سے تیار کردہ مصنوعات برآمد کی جائیں گی۔
اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے کاروباری اداروں کو جانوروں کی خوراک، ادویات، ویکسین اور دیگر ضروری سامان بھی ڈیوٹی اور ٹیکس کے بغیر درآمد کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس کے علاوہ مویشیوں کے باڑے، قرنطینہ مراکز، مذبح خانے اور گوشت کی تیاری کے کارخانے قائم کرنے کے لیے مشینری درآمد کرنے کی سہولت بھی دی جا سکے گی۔
مجوزہ قواعد کے تحت پہلے طریقے میں درآمد شدہ جانوروں میں سے کم از کم اسی فیصد برآمد کرنا لازم ہوگا، جبکہ دوسرے طریقے میں مجموعی پیداوار کی مالیت کے لحاظ سے اسی فیصد برآمدات کی شرط ہوگی۔ یہ شرط پہلے مکمل مالی سال کے بعد مسلسل چار سال تک برقرار رکھنا ہوگی۔
قواعد کے مطابق گائے کو قرنطینہ سے رہائی کے بعد 180 دن کے اندر برآمد یا برآمد کے لیے ذبح کرنا ہوگا، جبکہ بھیڑ اور بکریوں کے لیے یہ مدت 120 دن مقرر کی گئی ہے۔ ذبح کے بعد گوشت اور گوشت سے تیار کردہ مصنوعات بھی 120 دن کے اندر برآمد کرنا لازم ہوگا۔
اسکیم کے تحت جانوروں کو ذبح کرنے کی اجازت صرف رجسٹرڈ برآمدی مراکز میں، ویٹرنری نگرانی میں ہوگی، جبکہ درآمد شدہ اور مقامی جانوروں کی مصنوعات کی تیاری کے لیے الگ انتظامات کرنا ہوں گے۔











