لاہور(پاک ترک نیوز)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ لانگ مارچ فی الحال روکا ہوا ہے، وزیراعظم سے ملاقات اپنی جگہ لیکن اگر عوام کو ریلیف دینے کا کوئی ایجنڈا نہیں تو ملاقات کیوں کریں؟ دو دن سے ملاقات کے لیے بلایا جا رہا ہے، اب لانگ مارچ شروع کریں گے، چاروں طرف سے اسلام آباد کی جانب پہنچیں گے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کروائیں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ملک میں معیاری تعلیم کا حصول انتہائی کم ہے اور تعلیمی نظام تیزی سے زوال پذیر ہو رہا ہے۔ پنجاب میں نویں جماعت کے باون فیصد بچوں کے فیل ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیم کے شعبے میں کوئی کام نہیں کر رہی، اسکول نہیں چل رہے اور گیارہ اسکول بیرونی اداروں کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق سرکاری اعداد و شمار میں غربت کی شرح انتالیس فیصد بتائی جاتی ہے، جبکہ گزشتہ چار سال کے دوران پنجاب میں غربت میں اکتالیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومتی اقدامات غربت میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں، عوام کو تعلیم اور روزگار فراہم کرنے کے بجائے امدادی رقوم پر انحصار بڑھایا جا رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ادارہ بدعنوانی کے نظام کو جاری رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا عوام کو سستا آٹا اور گندم فراہم کرنے کابڑا حکم
کسانوں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کسانوں کو گندم کی مناسب قیمت نہیں مل رہی، منڈی میں گندم پانچ ہزار چار سو روپے میں فروخت ہو رہی ہے، جبکہ ڈی اے پی کھاد کی قیمت میں تین ہزار روپے اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کھاد کی بلیک مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے زراعت کے شعبے کو تباہ کر دیا ہے۔












