دوشنبے ( پاک ترک نیوز) قازقستان نے اپنے سونے کے بڑے ذخائر میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں توازن پیدا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ قازقستان کے مرکزی بینک نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک سونے کے ذخائر کا مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں حصہ تقریباً تین فیصد کم کیا جائے گا۔عالمی مالیاتی منڈیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق قازقستان کے مرکزی بینک کی ڈپٹی گورنر عالیہ مولدابیکووا کا کہنا ہے کہ امریکی حکومتی بانڈز پر منافع کی شرح کئی دہائیوں کی بلند سطح کے قریب پہنچنے سے ڈالر میں سرمایہ کاری زیادہ پُرکشش ہو گئی ہے، جس کے باعث سونے کی سرمایہ کاری کے طور پر کشش میں کمی آئی ہے۔
قازقستان دنیا میں سونا پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے اور اس کا مرکزی بینک ملک میں نکالے جانے والے سونے کا تمام حصہ خریدنے کا اختیار رکھتا ہے۔ گزشتہ سال فروری میں سونے کی فروخت روکنے کے بعد قازقستان کے سونے کے ذخائر بڑھ کر 386 ٹن ہو گئے، جو مجموعی ذخائر کا تقریباً 78 فیصد ہیں۔عالیہ مولدابیکووا کے مطابق ذخائر کا اتنا بڑا حصہ صرف سونے پر مشتمل ہونا تشویش کا باعث ہے، کیونکہ اس سے سرمایہ کاری کا توازن متاثر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 66 ارب 40 کروڑ ڈالر کے غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کو ضرورت کے وقت فوری استعمال کے قابل رکھنا ضروری ہے۔قازقستان سونے کے ذخائر میں مجوزہ کمی کا نصف حصہ سونا براہِ راست فروخت کرکے، جبکہ باقی نصف حصہ مالیاتی معاہدوں کے ذریعے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم، اگر سونے کی قیمت فی اونس چار ہزار ڈالر سے نیچے آتی ہے تو فروخت کیے بغیر بھی ذخائر میں سونے کا تناسب کم ہو کر 75 فیصد کے قریب پہنچ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: استنبول میں شدید بارشوں کا 80سالہ ریکارڈ ٹو ٹ گیا ،3افراد ہلاک
دوسری جانب عالیہ مولدابیکووا نے کہا کہ مارکیٹ کی پیش گوئیوں کے مطابق سونے کی قیمت میں مزید اضافہ متوقع ہے، اس لیے مرکزی بینک فوری طور پر طویل مدتی حکمت عملی طے کرنے کے بجائے صورتحال کا مسلسل جائزہ لے گا۔عالمی کونسل برائے سونا کے اعداد و شمار کے مطابق قازقستان 2026 کے ابتدائی آٹھ ماہ میں دنیا کے بڑے سرکاری خریداروں میں چوتھے نمبر پر رہا۔ اگست میں سات ٹن سونا خریدنے کے بعد اس سال اب تک قازقستان کی سونے کی خریداری 36 ٹن تک پہنچ چکی ہے۔












