بیجنگ(پاک ترک نیوز)چین نے سونے کی خریداری اور درآمدات میں نئے ریکارڈ قائم کردیے ہیں۔ چینی مرکزی بینک مسلسل 23 ماہ سے سونے کے ذخائر میں اضافہ کر رہا ہے، جبکہ ملک میں سونے کی درآمدات بھی غیر معمولی سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس رجحان کے عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں پر اہم اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
چین کی جانب سے سونے کی بڑھتی ہوئی خریداری کی ایک بڑی وجہ امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنا اور اپنے مالی ذخائر کو متنوع بنانا ہے۔ اس کے علاوہ چین کی جائیدادوں اور حصص کی منڈی میں کمزوری کے باعث شہری اور کاروباری ادارے بھی سونے کو نسبتاً محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق چین نے 2026 کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران ریکارڈ 158 ارب 80 کروڑ ڈالر مالیت کا سونا درآمد کیا، جس کی مقدار ایک ہزار ٹن سے زیادہ رہی۔ اس کے مقابلے میں پورے 2025 کے دوران چین نے 96 ارب 50 کروڑ ڈالر مالیت کا 886 ٹن سونا درآمد کیا تھا۔
چینی مرکزی بینک نے ستمبر 2026 میں اپنے ذخائر میں تقریباً 23 ٹن سونے کا اضافہ کیا، جو تقریباً تین سال کے دوران اس کی سب سے بڑی ماہانہ خریداری قرار دی گئی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سونے کی قیمتوں میں کمی کے باوجود چین کی خریداری میں اضافہ ہوا ہے۔ ستمبر میں سونے کی عالمی قیمت آٹھ فیصد سے زیادہ گر کر تقریباً 4 ہزار 176 ڈالر فی ٹرائے اونس رہ گئی تھی، جبکہ جنوری میں قیمت 5 ہزار 500 ڈالر فی اونس سے بھی تجاوز کرگئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں 50 ہزار حاملہ خواتین کو شدید خطرات، اگلے ماہ 5 ہزار سے زائد بچوں کی پیدائش متوقع
ماہرین کے مطابق چین میں سونے کی مضبوط طلب عالمی منڈی میں قیمتوں کو مزید گرنے سے روکنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم امریکا میں بلند شرح منافع سونے کی طلب پر دباؤ برقرار رکھ سکتی ہے۔
اسٹیٹ اسٹریٹ انویسٹمنٹ مینجمنٹ کے ماہر آکاش دوشی نے پیش گوئی کی ہے کہ مضبوط طلب کے باعث مارچ 2027 کے اختتام تک سونے کی قیمت 4 ہزار 750 سے 5 ہزار 500 ڈالر فی ٹرائے اونس تک پہنچ سکتی ہے۔
تاہم چین کے سونے کے ذخائر میں مسلسل اضافے کے باوجود اس کے پاس موجود سونے کی مجموعی مقدار اب بھی امریکا کے ذخائر سے نمایاں طور پر کم ہے۔












