غزہ(پاک ترک نیوز) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی نے غزہ اور مغربی کنارے میں حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کی بگڑتی صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ادارے کے مطابق جنگی حالات، اسپتالوں پر حملوں اور طبی نظام کی تباہی کے باعث ہزاروں خواتین محفوظ طریقے سے بچوں کو جنم دینے کی سہولتوں سے محروم ہو رہی ہیں۔
ادارے کے مطابق غزہ میں اس وقت تقریباً 50 ہزار خواتین حاملہ ہیں، جن میں سے 5 ہزار سے زائد خواتین کے اگلے ایک ماہ کے دوران بچوں کو جنم دینے کی توقع ہے۔ اسپتالوں میں طبی سہولتوں کی کمی، زندگی بچانے والی ادویات کی قلت اور ایندھن و بجلی کی عدم دستیابی نے زچگی کے انتظامات کو شدید متاثر کیا ہے۔
دوسری جانب مغربی کنارے میں بھی تقریباً 73 ہزار خواتین حاملہ ہیں، جن میں سے 8 ہزار سے زائد خواتین کے آئندہ ماہ بچے پیدا ہونے کی توقع ہے۔ علاقے میں بڑھتے تشدد کے باعث حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر حاملہ خواتین اور نئی ماؤں کو ضروری طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے زچگی کی تربیت یافتہ معاون خواتین کی خدمات فعال کی جائیں گی، جبکہ اسپتالوں کے ماہر ڈاکٹروں سے رابطہ بھی برقرار رکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: جان وِک کے انداز میں کرسمس پر ایکشن اور مزاح کا طوفان، نئی فلم ’’دی ہالیڈے ہٹ مین‘‘ اگلے ماہ ریلیز ہوگی
ادارہ خواتین اور نوجوانوں کو معلومات اور مشاورت فراہم کرنے کے لیے رابطہ مراکز کی مدد بھی کر رہا ہے، تاکہ مشکل حالات میں انہیں ضروری رہنمائی مل سکے۔












