واشنگٹن ( پاک ترک نیوز)
امریکہ کی تاریخ میں منتخب ہونے والے پہلے مسلمان سینیٹرعبدالرحمن محمد السیدپیدائش: 31 اکتوبر 1984 کوایک مصری نژاد امریکی گھرانے میں پیدا ہونے۔وہ ماہرِ وبائیات، پبلک ہیلتھ ایڈمنسٹریٹر، ماہرِ تعلیم اور سیاست دان ہیں، جو ریاست مشی گن سے منتخب ہونے والے امریکی سینیٹر ہیں۔
جنوب مشرقی مشی گن میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والے السید نے یونیورسٹی آف مشی گن سے گریجویشن کیا اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ میںروڈز اسکالر ہیں۔ جہاں سے انہوں نے پبلک ہیلتھ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی سے طب (میڈیسن) کی ڈگری حاصل کی اور وہیں میل مین اسکول آف پبلک ہیلتھ میں شعبہ وبائیات کے اسسٹنٹ پروفیسر بنے۔ وہ 2015 سے 2017 تک ڈیٹرائٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رہے۔ اور 2023 سے 2025 تک انہوں نے وین کاؤنٹی ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ، ہیومن اینڈ ویٹرنز سروسز کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
ایک ترقی پسند ڈیموکریٹ کے طور پر، السید نے 2026 کے مشی گن ڈیموکریٹک سینیٹ پرائمری انتخابات میں امریکی ایوان نمائندگان کی رکن ہیلی اسٹیونز کو شکست دی۔ جبکہ عام انتخابات میں ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو بھی شکست دی۔اب حلف اٹھانے کے بعد السید امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن بن جائیں گے۔
ریپنلکن پارٹی کے لئے اپنی وسط مدتی انتخاب کی مہم کے دوران، ٹرمپ نےالسید کو بطور مسلمان ہدفِ تنقید بنانا جاری رکھا ۔ 12 اکتوبر کو ٹرمپ نے کہا، "میرے نزدیک، وہ ’محمد‘ ہے اور ایک انتہا پسند جہادی ہے۔پھر 14 اکتوبر کو ٹرمپ نےالسید اورالہان عمر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صومالی ڈاکو، تیسری دنیا کے غنڈے اور جہادیوں کے ہمدرد اوہائیو میں رہنے کے لائق نہیں ہیں۔ وہ امریکہ میں رہنے کے لائق نہیں ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ انہیں یہاں سے فوراً نکال باہر کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: عبدالرحمن محمد السید امریکی تاریخ میں منتخب ہونے والے پہلے مسلم سینیٹر بن گئے
اس شدید تنقید کے جواب میں24 اکتوبر کو، سابق صدر براک اوباما نے ڈیٹرائٹ میں ایک ریلی کے دوران السید کی حمایت کی۔ اوباما نے سیاست میں پیسے کے اثر و رسوخ کو کم کرنے اور صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کو وسیع کرنے سے متعلق السید کی تجاویز کی تعریف کی، اور ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ صدارتی عہدے کا استعمال خود کو اور اپنے خاندان کو مالا مال کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔انہوں نے ان کوششوں کی بھی مذمت کی جن کے ذریعے امیدواروں کو ان کے مذہب یا پس منظر کی بنا پرغیر امریکی قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔جبکہسابق ڈیموکریٹ صدارتی امیدوارکمالا ہیرس نے ستمبر میں ال سید کی حمایت کی اور ان کے ساتھ انتخابی مہم میں حصہ لیا۔
بعد ازاں 2 نومبر 2026 کو الیکشن سے ایک دن پہلے امریکی گلوکار بروس اسپرنگسٹین نے ا سید کی حمایت کا اعلان کیا اور انہیں بدعنوان، امریکی مخالف قیادت کے خلاف امریکی آئین اور جمہوریت کے دفاع میں لڑنے والا قرار دیا۔












