اسلام آباد: (پاک ترک نیوز)وفاقی تحقیقاتی ادارے نے وفاقی بورڈ آف ریونیوکے ایک سینئر افسر اور دودیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے فرانس کے ویزے حاصل کرنے کے لیے مسافروں کو جعلی طور پرایف بی آر اہلکار ظاہر کیا۔
رپورٹس کے مطابق، یہ کیس اس وقت شروع ہوا جب ایف آئی اے کے امیگریشن عملے نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دو مسافروں کو روکا، جو جعلی اسناد کے ذریعے فرانس سفر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
سیکنڈری اسکریننگ کے دوران مسافروں نے دعویٰ کیا کہ وہ ایف بی آر کے ایک سرکاری وفد کا حصہ ہیں، لیکن انہوں نے نہ تو کوئی سفری اجازت نامہ، تعیناتی آرڈر اور نہ ہی نوکری کا ثبوت فراہم کیا۔
تفتیش میں مسافروں کے سفرنامے میں تضادات سامنے آئے، جیسے پیرس سے بارسلونا کے لیے ایک ہی دن میں اگلی پرواز، جس سے مشتبہ ہوا کہ یہ لوگ یورپ میں غیر قانونی قیام کی کوشش کر رہے ہیں۔
موبائل فون کی جانچ میں معلوم ہوا کہ دونوں مسافر الزام میں نامزدایف بی آر افسر سے رابطے میں تھے، جس نے خود کوکوآرڈینیٹر ظاہر کیا اور ویزا درخواستوں کی حمایت کے لیے سرکاری ای میل ایڈریس استعمال کیا۔
ایف آئی اے کے مطابق، بینک ریکارڈز سے معلوم ہوا کہ ویزوں کے انتظام کے لیے تقریباً 5.3 ملین روپے قسطوں میں منتقل کیے گئے۔ ملزمان پر امتیازی رویہ اختیار کرنے، دھوکہ دہی، جعلسازی، بدعنوانی کے علاوہ امیگریشن آرڈیننس کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔مسافروں کو جہاز سے اتار کر ایف آئی اے کرائم سرکل کے حوالے کیا گیا، جہاں انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ سرکاری ملازم نہیں بلکہ ایک ڈرائیور اور پراپرٹی ڈیلر ہیں۔
ایف آئی اے نے پاسپورٹ، الیکٹرانک آلات، سفرنامے اور مالی ریکارڈز ضبط کر لیے ہیں اور تحقیقات کو وسعت دیتے ہوئے یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا ایف بی آرکے نام کا استعمال کرتے ہوئے مزید ویزے جاری کیے گئے تھے یا دیگر سہولت کار شامل تھے۔












