واشنگٹن :(پاک ترک نیوز)امریکی بحریہ کا ایٹمی توانائی سے چلنے والا عظیم الشان طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن ایک طویل وقفے کے بعد دوبارہ بحر الکاہل کے تزویراتی پانیوں میں پہنچ گیا ہے۔
اس بحری بیڑے کی خاموشی سے ہونے والی واپسی کو خطے میں امریکی اثر و رسوخ کی بحالی اور بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن محض ایک جہاز نہیں بلکہ سمندر کی لہروں پر بسا ایک تیرتا ہوا شہر ہے، جس پر 5,000 سے زائد فوجی اہلکار ہمہ وقت تعینات رہتے ہیں۔
دو طاقتور ایٹمی ری ایکٹرز سے لیس یہ بیڑا 20 سال تک بغیر ایندھن بھروائے مسلسل آپریشنز جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی عرشہ پر 60 سے زائد جدید ترین جنگی طیارے موجود ہیں، جو اسے دنیا کی طاقتور ترین بحری قوتوں میں شامل کرتے ہیں۔
تزویراتی اہمیت اور عالمی توازناس بیڑے کی واپسی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جنوبی چین کے سمندر میں علاقائی تنازعات اور شمالی کوریا کے میزائل پروگرام کی وجہ سے ماحول خاصا گرم ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے اتحادیوں کے لیے یہ بیڑا ایک حفاظتی ڈھال کی مانند ہے، جو کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف امریکہ کے پختہ عزم کا اظہار کرتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بحری بیڑے کا مشن صرف فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں ہے۔ دنیا کی مجموعی تجارت کا تقریباً 60 فیصد حصہ بحر الکاہل کے راستوں سے گزرتا ہے۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن ان تجارتی شاہراہوں کی نگرانی کر کے عالمی سپلائی چین کو محفوظ بناتا ہے، جس کا براہِ راست اثر عالمی منڈی میں اشیاء کی قیمتوں کے استحکام پر پڑتا ہے۔
انسانی ہمدردی اور امدادی مشناپنی جنگی ہیبت کے باوجود، یہ جہاز انسانی ہمدردی کے کاموں میں بھی پیش پیش رہتا ہے۔ قدرتی آفات کی صورت میں یہ بیڑا ایک عظیم الشان ہسپتال اور امدادی مرکز میں تبدیل ہو جاتا ہے، جہاں جدید ترین سرجیکل یونٹس اور لاکھوں گیلن صاف پانی پیدا کرنے کی سہولت موجود ہے، جو اسے مشکل گھڑی میں ایک ناگزیر سہارا بناتی ہے۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی بحر الکاہل میں دوبارہ تعیناتی محض ایک فوجی معمول نہیں، بلکہ یہ سمندروں پر امریکی گرفت برقرار رکھنے اور عالمی امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔












