واشنگٹن /تہران : (پاک ترک نیوز)امریکی فوج نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی نیوی اور ایئر فورس کے اہم عسکری اثاثے منتقل کرنا شروع کر دیے ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایک مکمل ایئرکرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ خلیج کی جانب روانہ ہو چکا ہے۔ امریکا نے آخری مرتبہ مشرقِ وسطیٰ میں اس نوعیت کی بڑی فوجی نقل و حرکت جون میں کی تھی، جو اسرائیل اور تہران کے درمیان بارہ روزہ جنگ کے دوران ایران کی تین جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں سے چند روز قبل سامنے آئی تھی۔
اسی ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ “مدد آ رہی ہے”، تاہم گزشتہ ہفتے انہوں نے فوجی بیانات میں نرمی پیدا کی۔
اس کے بعد ایران میں جاری احتجاجی تحریک کو دبا دیا گیا۔صدر ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ امریکا کا ایک “بڑا بحری بیڑا” خلیج کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس کا مرکزِ توجہ ایران ہے۔
انہوں نے کہا، “ہم ایران پر نظر رکھے ہوئے ہیں، ہمارے پاس ایک بڑی فورس ایران کی طرف جا رہی ہے۔ ممکن ہے ہمیں اسے استعمال نہ کرنا پڑے، لیکن احتیاطاً ہمارے کئی جہاز اس سمت بڑھ رہے ہیں۔”امریکی حکام کے مطابق ایئرکرافٹ کیریئر ابراہم لنکن نے ایک ہفتہ قبل جنوبی بحیرۂ چین سے اپنا راستہ بدل کر مشرقِ وسطیٰ کا رخ کیا۔
اس کے ساتھ موجود اسٹرائیک گروپ میں آرلی برک کلاس ڈسٹرائرز بھی شامل ہیں، جو ٹاماہاک کروز میزائلز سے لیس ہیں اور ایران کے اندر گہرائی تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
امریکی بحری جہازوں پر نصب ایجس کومبیٹ سسٹم انہیں بیلسٹک اور کروز میزائل حملوں سمیت فضائی خطرات سے دفاع کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
یاد رہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے دوران امریکی فورسز نے آبدوزوں سے 30 ٹاماہاک میزائل داغے تھے اور بی ٹو بمبارز کے ذریعے بھی فضائی حملے کیے گئے تھے۔
جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے اقتدار سے ہٹنے کے خواہاں ہیں، تو انہوں نے جواب دیا: “میں اس میں نہیں جانا چاہتا، لیکن وہ جانتے ہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ بہت زیادہ ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔”
ادھر ایران نے سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب کے درمیان رابطہ کاری کے سربراہ علی عبداللہی علی آبادی نے خبردار کیا کہ ایران پر کسی بھی فوجی حملے کی صورت میں خطے میں موجود تمام امریکی اڈے “جائز اہداف” ہوں گے۔
پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر جنرل محمد پاکپور نے کہا کہ ایران “پہلے سے زیادہ تیار ہے اور انگلی ٹریگر پر ہے”، اور امریکا و اسرائیل کو کسی بھی غلط اندازے سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔
امریکا گزشتہ کئی دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ میں فوجی اڈے چلا رہا ہے اور اس وقت خطے میں 40 سے 50 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔
کونسل آن فارن ریلیشنز کے مطابق امریکا کم از کم 19 مقامات پر مستقل اور عارضی فوجی تنصیبات رکھتا ہے، جن میں بحرین، عراق، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔
بڑھتی کشیدگی کے باعث خلیجی فضائی حدود میں کچھ پروازیں بھی متاثر ہوئیں، جبکہ امریکا نے ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں ملوث جہازوں پر نئی پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں۔یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ ایک بار پھر خطرناک موڑ کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر پڑ سکتے ہیں۔











