ڈھاکہ: (پاک ترک نیوز) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے معاملے پر اپنا حتمی مؤقف واضح کر دیا ہے، جس کے مطابق بی سی بی پر کسی بھی نوعیت کی کوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔
آئی سی سی اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے درمیان باہمی مشاورت کے بعد اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ نہ تو کوئی مالی جرمانہ ہوگا، نہ انتظامی کارروائی کی جائے گی اور نہ ہی کھیلوں سے متعلق کسی سزا کا اطلاق کیا جائے گا۔
آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے تمام آئینی حقوق برقرار رہیں گے اور اگر بی سی بی چاہے تو آئی سی سی کے قواعد کے مطابق ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی سے رجوع بھی کر سکتا ہے۔
کونسل کے مطابق یہ فیصلہ شفافیت، غیر جانبداری اور انصاف کے اصولوں کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد کشیدگی کے بجائے تعاون کو فروغ دینا ہے۔
اس پیش رفت کے ساتھ ہی آئی سی سی نے بنگلا دیش پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 2031 کے مینز کرکٹ ورلڈ کپ سے قبل، 2028 سے 2031 کے درمیان بنگلا دیش کو کسی ایک آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی دی جائے گی۔
تاہم یہ میزبانی آئی سی سی کے طے شدہ طریقۂ کار، منصوبہ بندی اور انتظامی تقاضوں کی تکمیل سے مشروط ہوگی۔آئی سی سی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بنگلا دیش کی میزبانی کی صلاحیت اور کرکٹ انفراسٹرکچر پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ اس کا مقصد رکن ممالک میں کھیل کے فروغ اور عالمی کرکٹ کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
اس موقع پر آئی سی سی، پاکستان کرکٹ بورڈ اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ سمیت دیگر رکن ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کھیل کے بہترین مفاد میں باہمی رابطے، تعاون اور مثبت مکالمے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، تاکہ کرکٹ کی سالمیت اور عالمی اتحاد کو برقرار رکھا جا سکے۔
آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو سنجیو گپتا نے کہا ہے کہ اگرچہ بنگلا دیش کی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں عدم شرکت مایوس کن تھی، تاہم اس سے آئی سی سی کے بنگلا دیش کے ساتھ طویل المدتی تعلقات اور تعاون پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ان کے مطابق بنگلا دیش ایک اہم کرکٹ ملک ہے، جو عالمی سطح پر سرمایہ کاری، مسابقت اور ترقی کا بھرپور حق رکھتا ہے، اور اسے عارضی مسائل کی بنیاد پر نہیں جانچا جا سکتا۔












