کراچی : (پاک ترک نیوز)اسٹیٹ بینک آف پاکستان اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پیر کے روز تصدیق کی ہے کہ تمام بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں (DFIs) نے 31 دسمبر 2024 ء تک کی غیر کلیم شدہ رقوم مرکزی بینک کے حوالے کر دی ہیں، جس کے بعد اب حقدار افراد اپنی رقم واپس حاصل کر سکتے ہیں۔
مرکزی بینک کے بیان کے مطابق ان رقوم میں وہ غیر فعال اکاؤنٹس، غیر وصول شدہ مالیاتی آلات اور وہ بیلنس شامل ہیں جو طویل عرصے سے استعمال نہیں ہوئے۔
رقم کی واپسی کیلئے شہری اسی بینک کی متعلقہ برانچ سے رابطہ کریں جہاں اکاؤنٹ کھولا گیا تھا، جبکہ برانچ بند ہونے کی صورت میں اسی بینک کی قریبی برانچ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
اگر کسی بینک کا انضمام یا خریداری ہو چکی ہو تو حاصل کرنے والے بینک کی قریبی برانچ سے رابطہ کرنا ہوگا۔غیر کلیم شدہ رقوم کی فہرست دیکھنے کیلئے متعلقہ سال کی لسٹ منتخب کر کے اپنا بینک چنیں، جس کے بعد ایکسل شیٹ میں برانچ کا نام، صوبہ، اکاؤنٹ ہولڈر کا نام، شناختی کارڈ نمبر، پتہ اور رقم کی تفصیل دستیاب ہوگی۔
شہری Ctrl+F کے ذریعے اپنا نام تلاش کر سکتے ہیں۔رقم کی واپسی کیلئے اکاؤنٹ ہولڈر یا اس کے قانونی وارث کو درخواست، درست شناختی کارڈ کی کاپی، اور اگر اکاؤنٹ ہولڈر فوت ہو چکا ہو تو جانشینی سرٹیفکیٹ جمع کروانا ہوگا۔
ایک لاکھ روپے سے کم رقم کی صورت میں تمام قانونی ورثا کا دستخط شدہ انڈیمنٹی بانڈ، درخواست، شناختی کارڈ کی نقول اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی جمع کروانا ضروری ہوگا۔
برانچ منیجر درخواست کو تمام ریکارڈ کے ساتھ اسٹیٹ بینک کو بھجوائے گا، اور تصدیق کے بعد رقم متعلقہ بینک کے ذریعے درخواست گزار کو واپس کر دی جائے گی۔
یہ اقدام ان ہزاروں پاکستانیوں کیلئے بڑی سہولت ہے جن کی رقوم طویل عرصے سے غیر فعال پڑی تھیں۔









