تہران : (پاک ترک نیوز)امریکی حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر ایران نے اپنے حساس فوجی مقامات پر حفاظتی اقدامات مکمل کر لیے ہیں، جن کی تازہ سیٹلائٹ تصاویر جاری کی گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے بڑھتے ہوئے امریکی خطرے کے باعث اہم فوجی تنصیبات کے گرد قلعہ بندی کی ہے۔
ان اقدامات میں کنکریٹ ڈھانچوں کی تعمیر، سرنگوں کے داخلی راستوں کو چھپانا اور بمباری سے متاثرہ میزائل اڈوں کی مرمت شامل ہے۔ماہرین کے مطابق یہ وہی مقام ہے جسے اسرائیل نے 2024ء میں نشانہ بنایا تھا۔
تصاویر سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایران نے گزشتہ برس 12 روزہ جنگ کے دوران امریکی بمباری سے متاثرہ جوہری سائٹ کی سرنگوں کے داخلی راستے بند یا مضبوط کر دیے اور دیگر مقامات پر بھی دفاعی اقدامات کیے ہیں۔
جیسے کہ پارچین فوجی کمپلیکس،اصفہان کمپلیکس،رپورٹ کے مطابق نطنز کے قریب کمپلیکس جو ایران کا اہم فوجی مقام ہے، اس کے گرد بھی قلعہ بندی کی گئی ہے۔ایک اور میزائل اڈہ جو ایرانی شہر قم سے 40 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ رائٹرز کے مطابق پرانی اور حالیہ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی عمارت پر ایک نئی چھت نصب کی گئی ہے۔












