یروشلم:(پاک ترک نیوز)اسرائیل کے سابق وزیرِاعظم نفتالی بینیٹ نے ایک بیان میں ترکیہ کو “نیا ایران” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انقرہ اسرائیل کے گرد گھیرا تنگ کر رہا ہے اور ایک ایسے سنی بلاک کی تشکیل کی کوشش کر رہا ہے جس میں ایٹمی صلاحیت کا حامل پاکستان بھی شامل ہو سکتا ہے۔
بینٹ نے الزام لگایا کہ ترکیہ کے صدررجب طیب اردوغان اسرائیل مخالف محاذ بنانے کے لیے سرگرم ہیں اور اس مقصد کے لیے قطر کے ساتھ مل کر سعودی عرب کو بھی اسرائیل سے دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ ممکنہ اتحاد اخوان المسلمون کے نظریات سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے، جس طرح خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کی مثال دی جاتی ہے۔
سابق اسرائیلی وزیراعظم نے خاص طور پر پاکستان کی جوہری صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے اسے اس ممکنہ اتحاد کا “اہم عنصر” قرار دیا اور کہا کہ اگر ایسا بلاک وجود میں آیا تو یہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیرِاعظمبنجمن نیتن یاہو بھی ماضی میں ایران کے بعد پاکستان کو ثانوی خطرہ قرار دے چکے ہیں۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ اگر ایران اور پاکستان جیسے ممالک جوہری ہتھیاروں سے لیس ہوں تو وہ بین الاقوامی ضوابط کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔
اسرائیل نے ایران پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تو اس کی جانب سے یہ جواز پیش کیا جا رہا تھا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام اسرائیل اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔ تاہم اب پاکستان کے حوالے سے بھی اسرائیل سے آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اسرائیل کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا ایران کے بعد اب پاکستان اسرائیل کا اگلا ٹارگٹ ہے؟ لیکن کیا ایسی غلطی کر سکتا ہے جوکہ پاکستان اسرائیل کو نیست و نابود کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔












