تہران: (پاک ترک نیوز)قرآنِ مجید کی ایک عظیم سورۃ الفجر، فجر کی قسم سے آغاز کرتی ہے ۔ ایک ایسا وقت جو اندھیرے سے روشنی کی طرف سفر کی علامت ہے۔
اسی سورۃ میں قومِ عاد، ثمود اور فرعون کی سرکشی اور ان کے انجام کا ذکر ہے، جو طاقت کے غرور کے انجام کی یاد دہانی کراتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ “الفجر” کے نام سے ایران نے ایک جدید ٹارپیڈو بھی متعارف کرایا ہے۔ دفاعی رپورٹس کے مطابق یہ ہتھیار جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور بڑے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ ٹارپیڈو پانی کی گہرائی میں تیز رفتاری سے سفر کرتا ہے اور اپنے ہدف کے نچلے حصے کو نشانہ بناتا ہے ، وہ مقام جہاں حملہ سب سے زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس کی رفتار تقریباً 40 سے 50 ناٹیکل میل فی گھنٹہ ہے، جو زمینی پیمانے پر تقریباً 90 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ بنتی ہے۔ اس کا جدید گائیڈنس سسٹم اسے خاموشی سے ہدف تک پہنچنے میں مدد دیتا ہے، جس سے دفاعی نظام کے لیے اسے بروقت پکڑنا مشکل ہو سکتا ہے۔
دعویٰ کیا جاتا ہے کہ آزمائشی مرحلے میں ایک پرانا بحری جہاز چند سیکنڈ میں ناکارہ بنا دیا گیا۔یاد رہے کہ امریکہ، روس اور دیگر بڑی طاقتوں کے پاس بھی جدید ٹارپیڈوز موجود ہیں، اور سمندری جنگی ٹیکنالوجی میں مقابلہ مسلسل جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے ہتھیاروں کی موجودگی بحری طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتی ہے، خاص طور پر ان حساس علاقوں میں جہاں عالمی تجارت اور توانائی کی رسد کا انحصار سمندری راستوں پر ہے۔سوال یہ ہے: کیا “الفجر” محض دفاعی حکمتِ عملی ہے یا خطے میں طاقت کا نیا پیغام؟












