تہران : (پاک ترک نیوز)ایران کی جانب سے سیٹلائٹ کے ذریعے جاری کی گئی تصاویر اُن بنکروں، شہروں اور زیرِ زمین تنصیبات کی ہیں جہاں میزائل بیٹریاں موجود ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان تنصیبات پر حملہ کر کے انہیں تباہ کر دیا گیا، تاہم ایران کا کہنا ہے کہ یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا۔
ایران نا صرف ان تنصیبات کی بحالی میں کامیاب رہا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ نقصان محدود نوعیت کا تھا۔زیرِ زمین میزائل سٹیز میں صرف داخلی راستوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جنہیں مختصر وقت میں دوبارہ بحال کر لیا گیا۔
سیٹلائٹ تصاویر نے ان حقائق کی تصدیق کر دی ہے۔ اب عالمی میڈیا حملے سے پہلے اور بعد کی تصاویر شائع کر رہا ہے، جن سے واضح ہوتا ہے کہ ایٹمی ری ایکٹرز کی صرف چمنیوں یا ایگزاسٹ سسٹم کو جزوی نقصان پہنچا تھا، مکمل تباہی کا دعویٰ درست نہیں تھا۔
ایران نے جدید ٹیکنالوجی اور مہارت کے ساتھ اپنے ایٹمی ری ایکٹرز اور زیرِ زمین سرنگوں کو دوبارہ فعال بنا لیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا، جن میں نیویارک ٹائمز، اے پی اور بی بی سی شامل ہیں،انہوں نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ وہ تنصیبات جنہیں امریکہ مکمل طور پر تباہ ہونے کا دعویٰ کرتا رہا، درحقیقت محفوظ رہیں۔
ایران نے ان تنصیبات کو دوبارہ یورینیم افزودگی کے قابل بنا لیا ہے، جبکہ ایٹمی بجلی پیدا کرنے والے ری ایکٹرز بھی بحال ہو چکے ہیں۔ زیرِ زمین میزائل سٹیز میں موجود میزائل بیٹریاں مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
یہ تمام سیٹلائٹ تصاویر ایران کی جانب سے جاری کی گئی ہیں، جن کے ذریعے دنیا کو زمینی حقائق دکھائے گئے ہیں۔ایران کے پاس آج بھی اتنی مقدار میں افزودہ یورینیم موجود ہے کہ وہ ایٹمی وارہیڈ تیار کر سکتا ہے۔
اسی تناظر میں روس نے پیشکش کی ہے کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم روس کے حوالے کر دے تاکہ اسے محفوظ رکھا جا سکے اور ضرورت پڑنے پر واپس کیا جا سکے۔












