نوک : (پاک ترک نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے بیانات کے بعد عالمی سفارتی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کینیڈا اور فرانس نے گرین لینڈ میں اپنے قونصل خانے قائم کر دیے ہیں۔
اس اقدام کو گرین لینڈ اور ڈنمارک کے ساتھ یکجہتی کا واضح اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔کینیڈا نے جمعے کے روز گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک (Nuuk) میں اپنا پہلا سفارتی مشن باضابطہ طور پر کھولا۔
اس موقع پر کینیڈا کی گورنر جنرل میری سائمن اور وزیر خارجہ انیتا آنند سمیت اعلیٰ سطحی وفد موجود تھا، جبکہ ایک کینیڈین کوسٹ گارڈ جہاز بھی اس تقریب کا حصہ بنا۔
پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انیتا آنند نے کہا کہ یہ قونصل خانہ گرین لینڈ اور ڈنمارک کے عوام کے ساتھ طویل المدتی شراکت اور یکجہتی کی علامت ہے۔
اسی روز فرانس نے بھی گرین لینڈ میں اپنا قونصل خانہ کھول دیا، جسے اس خطے میں غیر ملکی سفارتی سرگرمیوں میں تاریخی توسیع قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل نوک میں صرف آئس لینڈ اور امریکہ ہی باضابطہ قونصلر خدمات فراہم کر رہے تھے۔
کینیڈا اور فرانس کے اس اقدام کو نیٹو اتحادیوں کی جانب سے گرین لینڈ کی حمایت کا واضح پیغام بھی سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب صدر ٹرمپ یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ امریکہ کو قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ کا مالک ہونا چاہیے۔
بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیانات میں قدرے نرمی لاتے ہوئے کہا کہ وہ اب ڈنمارک، یورپی اتحادیوں اور کینیڈا کے ساتھ بات چیت کے بعد کسی ممکنہ معاہدے پر غور کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس بدلتی ہوئی صورتحال نے گرین لینڈ کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے پروفیسر مائیکل بائرز کے مطابق کینیڈا کا یہ اقدام غیر معمولی طور پر اہم ہے، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ قدم اس سے پہلے کیوں نہیں اٹھایا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ اور کینیڈین آرکٹک کے درمیان قریبی جغرافیائی اور ثقافتی تعلقات موجود ہیں، کیونکہ نوناوٹ کا دارالحکومت اقالوئت، نوک سے صرف ایک گھنٹے کی پرواز پر واقع ہے۔
اس کے علاوہ کینیڈا اور گرین لینڈ کے انویٹ قبائل کے درمیان گہرے نسلی اور ثقافتی رشتے بھی پائے جاتے ہیں، جن کی نمائندگی خود گورنر جنرل میری سائمن کی انوک جڑوں سے ہوتی ہے۔
میری سائمن 1982 کے بعد گرین لینڈ کا دورہ کرنے والی پہلی کینیڈین گورنر جنرل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بچپن میں وہ اپنی دادی کے شارٹ ویو ریڈیو پر گرین لینڈک انویٹ گیت سنا کرتی تھیں، جنہیں ان کی دادی اپنے دور دراز رشتہ دار قرار دیا کرتی تھیں۔انویٹ تاپیریت کاناتامی کے صدر ناتن اوبیڈ کے مطابق یہ قونصل خانہ کینیڈین انویٹ کمیونٹی کی برسوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے، جو گرین لینڈ کے ساتھ قریبی تعلقات کی خواہاں تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی دھمکیوں نے انویٹ عوام میں گہری تشویش پیدا کی ہے، کیونکہ انہیں نوآبادیاتی تاریخ اور امریکہ کے کینیڈا سے متعلق بیانات بخوبی یاد ہیں۔
کینیڈا کی حکومت نے آرکٹک خطے میں مستقل فوجی موجودگی اور ایک ارب کینیڈین ڈالر سے زائد کے انفرااسٹرکچر منصوبوں کا اعلان بھی کیا ہے۔ وزیر خارجہ انیتا آنند نے آرکٹک دفاع کو کینیڈا کی قومی سلامتی کا مرکزی ستون قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ نہ صرف ملکی دفاع بلکہ عالمی سلامتی سے بھی جڑا ہوا ہے۔












