تہران : (پاک ترک نیوز)ایران نے ایک غیر معمولی اقدام کے تحت تہران کے نواحی علاقے میں امریکی جارح فوجیوں کی ممکنہ ہلاکتوں کی صورت میں عارضی تدفین کے لیے ایک قبرستان تیارکر لیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کو دستیاب معلومات کے مطابق یہ اقدام خطے میں امریکا کی عسکری مہم جوئی کے تناظر میں پیشگی تیاریوں کا حصہ ہے، تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ادارے نے تہران سے باہر ایک ایسا مقام مخصوص کیا ہے جس میں ہزاروں قبروں کی گنجائش موجود ہے اور اسے خاص حالات میں امریکی فوجی اہلکاروں کی ممکنہ ہلاکتوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ اقدام آئندہ ممکنہ پیش رفت کے مقابل پیشگی تیاری کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب دفاعی تجزیہ نگاروں نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متکبرانہ پالیسیاں، چاہے وہ اندرونی سطح پر ہوں یا یمن، ایران، غزہ اور لبنان کے خلاف، امریکا کو ناگزیر داخلی انہدام اور بے مثال عالمی تنہائی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
ایران نے امریکا کے مقابلے میں اپنی انٹیلی جنس اور تکنیکی برتری کو عملی طور پر ثابت کر دیا ہے۔ امریکا کی جانب سے ایران پر کسی بھی ممکنہ حملے کا انجام یقینی شکست کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
اگر امریکا نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی تو وہاں بھی اسی ذلت آمیز انجام کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایران نے خاص طور پر اسٹارلنک جیسے سیٹلائٹ کو ناکام اور امریکی ٹیکنالوجیز میں خلل ڈال کر اپنی اطلاعاتی اور فنی برتری ثابت کر دی ہے۔
ایران نے اب تک اپنی صلاحیتوں کا صرف 20 فیصد استعمال کیا ہے اور کسی بھی ہمہ گیر جنگ کی صورت میں وہ اپنی پوری طاقت بروئے کار لانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔












