تہران: (پاک ترک نیوز)ایرانی پارلیمنٹ میںگذشتہ روز ایک ایسا منظر دیکھا گیا جس نے واشنگٹن، تل ابیب اور یورپ کے پاور سینٹرز میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں۔
ایرانی ارکانِ پارلیمنٹ پاسدارانِ انقلاب کی وردیاں پہن کر ایوان میں داخل ہوئے، اور دنیا کو واضح پیغام دے دیا: ایران دباؤ میں آنے والا نہیں۔یورپی یونین کے پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے کے بعد تہران میں ردعمل محض بیانات تک محدود نہیں رہا۔
پارلیمنٹ کے اندر بڑے بینرز آویزاں کیے گئے ، نعرے لگے، آوازیں بلند ہوئیں، اور پیغام سیدھا ٹرمپ کو دیا گیا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر پاسدارانِ انقلاب دہشت گرد ہے، تو یورپی فوجیں بھی دہشت گرد تصور ہوں گی، اور اس کے نتائج کی ذمہ داری یورپی یونین پر ہو گی۔
اسی دوران ایک اور بڑا اور خطرناک بیان سامنے آیا۔ ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ کو براہِ راست خبردار کر دیا۔ انہوں نے کہا: اگر اس بار جنگ شروع کی گئی تو یہ جنگ ایران تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ پورے خطے میں پھیل جائے گی۔
خامنہ ای نے ٹرمپ کی دھمکیوں، بحری بیڑوں اور جنگی جہازوں کے ذکر کو بے اثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم ان حربوں سے خوفزدہ نہیں۔ ایران جنگ شروع نہیں کرے گا، لیکن اگر حملہ ہوا تو جواب ایسا ہو گا جو تاریخ یاد رکھے گی۔
یہ بیانات، یہ وردیاں، یہ نعرے۔ یہ سب اس بات کا اشارہ ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ ایک نہایت خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک غلط قدم اور پورا خطہ آگ میں جل سکتا ہے۔












