کراچی:(پاک ترک نیوز)عالمی مالیاتی منڈیوں میں سونے کی قیمتوں کو شدید دباؤ کا سامنا ہے، جہاں قیمتی دھات نے حالیہ برسوں کی سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی ہے۔
بین الاقوامی ٹریڈنگ کے دوران سونے کی قیمت میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں آئی، جس کے اثرات براہِ راست پاکستانی منڈیوں تک پہنچ گئے ہیں۔
مارکیٹ رپورٹس کے مطابق عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں تقریباً دس فیصد تک کمی واقع ہوئی، جس کے باعث فی اونس قیمت سینکڑوں ڈالر نیچے آ گئی۔
چند ہی دنوں کے اندر سونا مجموعی طور پر1 ہزار ڈالر فی اونس تک سستا ہو چکا ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔
عالمی رجحان کے مطابق پاکستان کی صرافہ مارکیٹ میں بھی سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز کمی دیکھی گئی۔ فی تولہ سونا ایک ہی دن میں21 ہزار روپے سے زائد سستا ہو کر ۵ لاکھ روپے کی نفسیاتی حد سے نیچے آ گیا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔چاندی کی قیمتیں بھی اس رجحان سے محفوظ نہ رہ سکیں۔
عالمی سطح پر فی اونس چاندی سستی ہونے کے باعث مقامی مارکیٹ میں فی تولہ اور 10 گرام چاندی کی قیمتوں میں بھی قابلِ ذکر کمی سامنے آئی ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق امریکہ اور یورپ میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مرکزی بینکوں کی سخت مانیٹری پالیسیوں نے سرمایہ کاری کے رجحانات کو بدل دیا ہے۔
بانڈز اور دیگر مالیاتی ذرائع میں بڑھتی ہوئی کشش کے باعث سرمایہ سونے سے نکل رہا ہے، جس نے قیمتوں کو نیچے دھکیل دیا۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈیوں میں یہی رجحان برقرار رہا تو اس کے اثرات مقامی مارکیٹوں میں بھی آئندہ دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں، تاہم ملکی قیمتوں کا حتمی انحصار ڈالر کی قدر، ٹیکس پالیسی اور معاشی حالات پر ہوگا۔












