بیجنگ : (پاک ترک نیوز)چینی صدر شی جن پنگ کے انتہائی قریبی ساتھی، ٹاپ جنرل اور جوہری نظام کے نگران پر امریکا کو نیوکلیئر راز فروخت کرنے کا سنگین الزام لگ چکا ہے۔
چینی فوجی قیادت کے سب سے طاقتور عہدے پر فائز جنرل ژانگ یو شیا کو اچانک تحقیقات کی زد میں لیا گیا ہے۔وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ژانگ پر الزام ہے کہ انہوں نے چین کے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق انتہائی حساس تکنیکی معلومات امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کو فراہم کیں۔
یہ صرف راز افشاء کرنے کا معاملہ نہیں، بلکہ کہا جا رہا ہے کہ جنرل ژانگ نے فوجی ترقیوں کے بدلے بھاری رشوت لی اور ذاتی فائدے کے لیے ملکی سلامتی کو دائو پر لگا دیا۔
چینی تحقیقاتی اداروں نے انہیں حراست میں لے لیا ہے، جبکہ شی جن پنگ کی خصوصی ٹیم فوجی اڈوں کے بجائے ہوٹلوں میں قیام کر رہی ہے، کیونکہ خدشہ ہے کہ ژانگ کے حامی نیٹ ورک فوج کے اندر موجود ہیں۔
چینی سرکاری میڈیا نے الزام لگایا ہے کہ جنرل ژانگ اور ایک اور سینئر جنرل نے کمیونسٹ پارٹی کی بالادستی کو چیلنج کیا اور صدر شی جن پنگ کی اتھارٹی کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جنرل ژانگ کا تعلق ایک انقلابی خاندان سے ہے، جن کے روابط چینی خانہ جنگی کے زمانے سے شی جن پنگ کے خاندان تک جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ 1971 ء کے بعد چین میں یہ سب سے بڑا اسکینڈل ہے، جب ایک بغاوت نے ماؤ زے تنگ کی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔












